Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2812

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْوَرِقُ بِالوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بالبُرَّ إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيرِ رَبًّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الذهب بالذهب ربا إلا هاء وهاء والورق بالورق ربا إلا هاء وهاء والبر بالبر إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سونا سونے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۱؎چاندی چاندی کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور گندم گندم کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد اور جو جو کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۲؎اورچھوہارے چھوہارے کے عوض سود ہے مگر نقد بہ نقد ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے فرمایا کہھَاءَدراصلھَاكَتھا بمعنیخُذْلے لے،اسم فعل ہے بمعنی امر،ک کو ہمزہ سے بدل دیا،معنی یہ ہیں کہ ایک دوسرے سے کہے یہ لے یعنی نقد،بعض نے فرمایاھاءاسم فاعل بمعنی امر ہے،ہمزہ کو جر ہے یا فتح،معنی وہ ہی ہیںخُذْیعنی لے لے،اس سے مراد نقد ہی ہے۔مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم وزن ہم جنس میں زیادتی حرام ہے ایسے ہی ادھار بھی حرام ہے،دو طرفہ نقد ہونی چاہیے۔
۲
؎اس حدیث سے اشارۃً بیع تعاطی کا جواز نکلتا ہے کہ فریقین منہ سے کچھ نہ کہیں ایک قیمت دے دے دوسرا مال۔ حضرت سفیان ثوری ایک انار والے کی دکان پر گئے،آپ نے دکاندار کے سامنے درہم رکھ دیا اس نے ایک انار آپ کے سامنے رکھ دیا آپ انار اٹھا کر چلے آئے۔ (مرقات)بات کوئی نہ کی،اس سے بیع تعاطی کا ثبوت ہوا،بیع تعاطی معمولی و اعلٰی ہر قسم کے مال میں ہوسکتی ہے،دیکھو یہاں چاندی سونے کی تجارت میں تعاطی کافی مانی گئی۔
۳
؎خیال رہے کہ سونا چاندی فرماکر تمام دھاتوں کی طرف اشارہ فرمادیا اور گندم و جو فرما کر تمام دانہ و غلے کی جانب اور چھوہارے فرما کر تمام پھلوں کی طرف اشارہ فرمادیا۔مطلب یہ ہوا کہ ہر ہم جنس وہم وزن چیز خواہ دھات کی قسم سے ہو یا غلے کی قسم سے خواہ پھلوں کی قسم سے ان میں زیادتی سود ہے حرام ہے،یہ تفصیل مذہب حنفی کی تائید فرماتی ہے کہ ہم جنس وہم وزن میں زیادتی حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2812