Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5103

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرِيدُ اللّٰهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يريد الله بأهل بيت رفقا إلا نفعهم ولا يحرمهم إياه إلا ضرهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کسی گھر والوں پر مہربانی کا ارادہ نہیں کرتا مگر انہیں نفع دیتا ہے اور الله ان کو محروم کرنا نہیں چاہتا مگر انہیں نقصان دیتا ہے ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الله تعالٰی جن لوگوں پر کرم فرماتا ہے ان کے دلوں میں نرمی ڈال دیتا ہے وہ لوگوں پر نرمی کرتے ہیں جس سے ان کی عزت اور بڑھ جاتی ہے اور جن لوگوں پر الله تعالٰی قہر فرماتا ہے انہیں نرمی دل سے محروم کردیتا ہے،ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں،لوگوں سے سختی سے پیش آتے ہیں۔نرمی بہت اچھی چیز ہے ہاں دین میں سختی اچھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5103