Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5070

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعه فإن الحياء من الإيمان .(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک انصاری شخص پرگزرے جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے متعلق نصیحت کررہا تھا ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑو ۲؎کیونکہ حیاء ایمان سے ہے ۳؎(مسلم و بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے کہہ رہا تھا کہ تو بہت شرمیلا ہے اتنی شرم نہ کیا کر کیونکہ بہت شرمیلا آدمی دنیا کما نہیں سکتا،یہاں وعظ سے مراد ڈرا کر نصیحت کرنا ہے۔(مرقات)۲؎یعنی اسے حیاءوغیرت سے نہ روکو اسے شرمیلا رہنے دو۔
۳
؎خیال رہے کہ جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حیاء الله کے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رکن اعلیٰ ہے اور جو حیاء نیک اعمال سے روک دے وہ بری ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنے سے شرم لگتی ہے یہ حیاء نہیں بے وقوفی ہے،یہاں پہلے یا دوسرے درجہ کی حیاء مراد ہے۔الله تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنا خوف اپنے حبیب کی غیرت نصیب کرے۔اعلیٰ حضرت اقدس سرہ فرماتے ہیں
دن لہو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5070