- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 5102
باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5102
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهٖ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهٖ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ .ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلِمَةٍ فَيُغْضِيعَنْهَا لِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللّٰهُ بِهَا نَصْرَهٗ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللّٰهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللّٰهُ بِهَا قِلَّةً ". رَوَاهُ أَحْمَدُ
وعنه أن رجلا شتم أبا بكر والنبي صلى الله عليه وسلم جالس يتعجب ويتبسم فلما أكثر رد عليه بعض قوله فغضب النبي صلى الله عليه وسلم وقام فلحقه أبو بكر وقال: يا رسول الله كان يشتمني وأنت جالس فلما رددت عليه بعض قوله غضبت وقمت. قال: كان معك ملك يرد عليه فلما رددت عليه وقع الشيطان .ثم قال: "يا أبا بكر ثلاث كلهن حق: ما من عبد ظلم بمظلمة فيغضيعنها لله عز وجل إلا أعز الله بها نصره وما فتح رجل باب عطية يريد بها صلة إلا زاد الله بها كثرة وما فتح رجل باب مسألة يريد بها كثرة إلا زاد الله بها قلة ". رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے ان ہی سے ایک شخص نے جناب ابوبکرکو برا کہا اور نبی صلی الله علیہ وسلم بیٹھے تعجب و تبسم فرمارہے تھے ۱∞؎تو جب اس نے بہت زیادتی کی تو آپ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا ۲؎اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے ۳؎ابوبکر حضور کے پیچھے پہنچے عرض کیا یارسول الله وہ مجھے برا کہتا رہا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کھڑے ہوگئے ۴؎فرمایا تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ۵؎پھر جب تم نے خود اسے جواب دیا تو شیطان پڑ گیا ۶؎پھر فرمایا اے ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں:نہیں ہے کوئی بندہ جس پر ظلم کیا جاوے تو الله کے لیے چشم پوشی کرے مگر اس کے ذریعہ الله اپنی مدد بڑھادے گا ۷؎اور کوئی شخص دینے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے ۸؎مگر اس سے الله تعالٰی زیادتی مال اور بڑھا دیتا ہے ۹؎اور کوئی شخص مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے زیادتی کا ارداہ کرے مگر اس سے الله تعالٰی کمی بڑھا دیتا ہے ۱۰؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تبسم حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا تحمل و بردباری ملاحظہ فرماکر ان پر خوش ہونے کی وجہ سے تھا۔معلوم ہوا کہ حضور انور اپنی امت کے نیک اعمال سے بہت خوش ہوتے ہیں،ہم کو چاہیے کہ ہمیشہ نیک اعمال کیا کریں کہ حضور کو اس سے خوشی ہوتی ہے اللہ ہم کو توفیق دے کہ اپنے نبی کو خوش کرلیں ان کی خوشی ہمارے نیک بننے سے ہوگی۔
۲؎حضرت ابوبکر صدیق کا جواب دینا بالکل جائز تھا اور ازروئے قرآن کریم بالکل حق تھا،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنۡتَصِرُوۡنَ"اور فرماتاہے:"لَایُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ"جناب صدیق اکبر اس وقت مظلوم تھے لہذا آپ پر کوئی اعتراض نہیں نہ آپ سے کوئی ناجائز کام سرزد ہوا۔
۳؎اس ناراضی کی وجہ آگے آرہی ہے کہ ذاتی موذی سے بدلہ لینا شان صدیقی کے لائق نہیں،نیز تم یہ بدلہ اپنے خادم فرشتے کے ذمہ رہنے دو اس موذی کو تم خود کیوں منہ لگاتے ہو،مجرموں کو سزا بادشاہ اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے بلکہ اپنے خدام سے سزا دلواتے ہیں۔
۴؎یعنی یارسول الله میں نے اس پر ظلم نہیں کیا حضور پھر مجھ پر ناراض کیوں ہوئے،ظالم تو وہ ہے میں نے تو صرف بدلہ لیا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ ناراضی کسی بات کی بناء پر نہ تھی بلکہ افضلیت کی تعلیم کے لیے تھی جیساکہ آئندہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔خیال یہ بھی رہے کہ یہاںشتمبمعنیسبہے یعنی برا کہنا بمعنی گالی نہیں اور یہ مطلب نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اسے جواب میں گالی دی آپ کی زبان مبارک جھوٹ اور گالی سے ہمیشہ محفوظ رہی۔
۵؎اس طرح کہ جب وہ شخص تم سے کہتا تھا کہ ابوبکر آپ تو ایسے ہیں تو فرشتہ کہتا تھا ابوبکر تو اچھے ہیں تو ہی ایسا ہے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نورانی نگاہیں غیبی فرشتوں کو دیکھتی ہیں اور آپکے کان شریف فرشتوں کی آواز سنتے ہیں،یہ فرشتہ یا تو کوئی خاص فرشتہ تھا جو اس کام کے لیے مامور ہواتھا یا آپ کے ساتھ رہنے والا فرشتہ،پہلا احتمال قوی ہے۔
۶؎یعنی اب تک تمہارا صبر رب کے لیے تھا اب تمہارا جواب دينا نفس کے لیے ہوا یہ اگرچہ جائز ہے مگر چونکہ اس میں اپنی ذات کو اور غصہ کو دخل ہے اس لیے فرشتہ خاموش ہوگیا اور شیطان خوش ہونے لگا۔ممکن ہے کہ اب تم اس کے جواب میں زیادتی کردو اب تک وہ ظالم تھا پھر ظلم تمہاری طرف سے ہوجاوے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ جائز کام بھی اگر نفس کے لیے ہو تو شیطان کی خوشی کا ذریعہ بن جاتاہے۔
۷؎یعنی جو شخص اپنے حقوق مارنے والے سے چشم پوشی کرے اس پر موقعہ پاکر بھی اس سے بدلہ نہ لے تو الله تعالٰی اس کی مدد اور بھی زیادہ کردے گا۔بھاکا مرجعمظلمۃہے۔یہ بات تجربہ سے بھی ثابت ہے معافی سے عزت بڑھتی ہے بشرطیکہ معافی کمزوری کی نہ ہو اخلاق کی ہو،وہ معافی والی آیتیں منسوخ ہیں جو کمزوری کی وجہ سے ہو اخلاقی معافی کی آیتیں محکم ہیں۔
۸؎یعنی رشتہ داروں سے سلوک کرنا صرف الله و رسول کی رضا کے لیے ہو اپنی ناموری کے لیے نہ ہو تو ثواب ہے اس کا فائدہ ہے۔
۹؎صدقہ ثواب ہے اور اپنے عزیزوں و اہل قرابت پر صدقہ دوہرا ثواب ہے صدقہ کا بھی اور حق قرابت ادا کرنے کا بھی۔
۱۰؎اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت کسی سے کچھ مانگ لینا جائز ہے صرف ضرورت کے مطابق مانگے اگر اور طرح سے ضرورت پوری ہوسکے تو نہ مانگے،اپنے پاس مال ہے اور زیادتی مال کے لیے مانگنا یہ بہرحال حرام ہے۔نصاب تین قسم کے ہیں:زکوۃ واجب ہونے کا نصاب،خیرات و زکوۃ لینے کی ممانعت کا نصاب اور سوال سے بچنے کا نصاب۔آخری نصاب بقدر ضرورت مال اپنے پاس ہونا ہے،ضرورت والا مانگے بلا ضرورت نہ مانگے،پیشہ ور گداگر ہمیشہ فقیر ہی رہتے ہیں،حاجت مند اور گداگر میں فرق کرنا چاہیے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5102