Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5078

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: الْخُلُقُ الْحَسَنُ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن رجل من مزينة قال: قالوا: يا رسول الله ما خير ما أعطي الإنسان؟ قال: الخلق الحسن رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے مزینہ کے ایک شخص سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا یارسول الله انسان کو بہترین چیز کون سی دی گئی ہے فرمایا اچھی عادت ۲∞؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎مزینہ ایک قبیلہ کا نام ہے،یہ صحابی اس قبیلہ سے ہیں،چونکہ صحابی تمام کے تمام عادل ہیں کوئی فاسق نہیں لہذا اگر صحابی کا نام معلوم نہ ہو تو حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا حتی کہ صحابی کا ارسال بھی صحیح ہے یعنی اگر کوئی صحابی کہہ دیں کہ میں نے کسی اور صاحب سے سنا انہوں نے حضور سے سنا تب بھی حدیث قوی اورصحیح ہے۔(مرقات)۲؎اچھی عادت سے مراد وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا جس سے دنیا اور دین دونوں درست ہوجاویں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5078