Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5087

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلٰى أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلٰى أَذَاهُمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المسلم الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم أفضل من الذي لا يخالطهم ولا يصبر على أذاهم . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں ملا جلا رہے اور ان کی تکلیف پر صبرکرے اس سے افضل ہے جو نہ ان سے ملا جلا رہے اور نہ ان کی ایذاء پر صبرکرے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے،بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مؤمن دوست شفاعت کریں گے اور آپ نے اپنی تائید میں یہ آیت پڑھی"فَمَا لَنَا مِنۡ شٰفِعِیۡنَ وَلَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ"کہ کفار اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیے،نیز بعض حالات میں،نیز بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے اگر جلوت میں خود اپنے آپ گناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر،حضرت وہب فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں نو خاموشی میں ایک خلوت میں۔(مرقات)بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوتخیر الامور اوسطہا،عربی میں تنہائی کوعزلۃکہتے ہیں۔عارفین فرماتے ہیں کہعزلۃمیں اگر علم کا عین نہ ہو تو ذلت ہے اور اگر زہد کی ز نہ ہو تو نری علت ہے یعنی خلوت وہ اختیار کرے جس کے پاس علم بھی ہو زہد بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5087