Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5077

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّار . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة. والبذاء من الجفاء والجفاء في النار . رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شرم و حیاء ایمان سے ہے ا ور ایمان جنت میں ہے ۱∞؎اور فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور
سخت دلی آگ میں ہے ۲
؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شرم و حیاء ایمان کا رکن اعلیٰ ہے۔دنیا والوں سے حیاء دنیاوی برائیوں سے روک دیتی ہے،دین والوں سے حیاء دینی برائیوں سے روک دیتی ہے،اللہ رسول سے شرم و حیاء تمام بدعقیدگیوں بدعملیوں سے بچالیتی ہے،ایمان کی عمارت اسی شرم و حیاء پر قائم ہے،درخت ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں رہتی ہے اس کی شاخیں جنت میں ہیں۔
۲
؎یعنی جو شخص زبان کا بے باک ہو کہ ہر بری بھلی بات بے دھڑک منہ سے نکال دے تو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اور اس میں حیاء نہیں۔سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں،ایسے بے دھڑک انسان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ الله رسول کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہوکر کافر ہوجاتا ہے لہذا یہ فرمان عالی بالکل ہی صحیح ہے ۔حضور حکیم مطلق ہیں ہماری بیماریوں ازاریوں پر ہم سے زیادہ خبردار ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5077