Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5086

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ كَالْجَمَلِ الْآنِفِ إِنْ قِيدَ انْقَادَ وَإِنْ أُنِيخَ عَلٰى صَخْرَةٍ اِسْتَنَاخَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا

وعن مكحول قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المؤمنون هينون لينون كالجمل الآنف إن قيد انقاد وإن أنيخ على صخرة استناخ . رواه الترمذي مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مکحول سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ۱∞؎مؤمن لوگ نرم دل نرم طبیعت ہوتے ہیں جیسے نکیل والا اونٹ ۲؎اگر چلایا جاوے تو اطاعت کرے اور اگر پتھر پر بٹھایا جاوے تو بیٹھ جاوے ۳؎(ترمذی مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ مکحول تابعی ہیں صحابی نہیں لہذا صحابی کا ذکر نہیں ہوا مگر چونکہ مکحول بڑے عالم ثقہ ہیں اس لیے ان کا ارسال قبول ہے،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو حضرت مکحول کا ارسال کیوں نہ معتبر ہو۔
۲
؎یعنی مؤمن زبان کا بھی نرم ہوتا ہے دل کا بھی نرم اور وہ الله رسول کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے جیسے نکیل والا اونٹ اپنے مالک کے قبضہ میں۔انفالف کے فتحہ نون کے کسرہ سے یہ بنا ہےانفبمعنی ناک سے،انفوہ اونٹ جس کی ناک میں نکیل اور نکیل مالک کے ہاتھ میں ہو۔
۳
؎یعنی مؤمن الله رسول کے احکام پر بلا جرح قدح سرجھکا دیتا ہے خواہ احکام نرم ہوں یا سخت وجہ نہیں پوچھتا کہ یہ حکم کیوں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5086