Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5099

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِيْ فَأَحْسِنْ خُلُقِيْ .رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم حسنت خلقي فأحسن خلقي .رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے تھے الٰہی تو نے میری صورت بھی اچھی کی ہے تو میری سیرت بھی اچھی کر ۱∞؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کی یہ دعا یا تو امت کی تعلیم کے لیے ہے یا اچھے اخلاق اور زیادتی کی طلب کے لیے یا اس پر دائم قائم رہنے کے لیے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم ساری خدائی سے بڑھ کر خوش خلق ہیں لہذا یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کے اس قول کے خلاف نہیں کہ آپ کا خلق قرآن ہے۔ہم نماز میں پڑھتے ہیں"اِهۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ"حالانکہ ہم ہدایت پر ہیں مسلمان ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"۔صوفیاء کرام فرماتے کہ باطنی ترقی کی انتہا نہیں کیونکہ وہ تجلی الٰہی سے ہے اور تجلی الٰہی کی انتہا نہیں حتی کہ اس کی انتہا جنت میں بھی نہ ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ" یہ زیادتی ہمیشہ ہوتی رہے گی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5099