Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5084

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ؟ عَلٰى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم بمن يحرم على النار وبمن تحرم النار عليه؟ على كل هين لين قريب سهل.رواه أحمد والترمذي وقال:هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ۱∞؎ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا ۲؎(احمد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎دونوں لازم و ملزوم ہیں کہ دوزخ کی آگ پر وہ حرام ہوجاوے اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہوجاوے کہ نہ آگ اس تک پہنچے نہ آگ تک وہ پہنچے اور اگر وہ کسی وقت دوزخیوں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں جاوے تو اس کو آگ کی گرمی نہ پہنچے۔
۲
؎ھیناورلینی کی شد سے بھی آتا ہے اور ی کے سکون سے بھی دونوں کے معنی ہیں نرم مگر جب یہ دونوں جمع ہوجاویں تو ایک سے مراد نرم طبیعت ہوتا ہے دوسرے سے مراد نرم زبان۔سہلکے معنی ہیںسمحیعنی لوگوں کی زیادتیوں سے درگزر کر جانے والا،قریب کے معنی ہیں لوگوں سے نزدیک رہنے والا کہ جب اس کی ضرورت پڑے تو حاضر ہوجاوے اگر لوگ اس سے مستغنی ہوں تو یہ بھی بے نیاز رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5084