Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5072

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النَّبُوُّةِ الْأُولٰى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِىَ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: إذا لم تستحى فاصنع ما شئت " رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پچھلی نبوت کا جو کلام لوگوں نے پایا ان میں سے یہ ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو جو چاہے کر ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ کلام بمعنی چیز ہے یعنی گزشتہ انبیاءکرام نے اپنی امتوں سے جو حکیمانہ کلام فرمائے ان میں سے ایک یہ کلام شریف بھی ہے کہ جب تیرے دل میں الله رسول کی اپنے بزرگوں کی شرم و حیاء نہ ہوگی تو برے سے برے کام کر گزرے گا کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو برائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے برائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پرواہ نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہےاذا لم تخش عاقبۃ اللیالی ولم تستحی فاصنع ماتشاء
فلا و الله ما فی العیش خیروفی الدنیا اذا ذھب اللیالی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5072