Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5076

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهٗ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِي حَظَّهٗ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهٗ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهٗ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

عن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من أعطي حظه من الرفق أعطي حظه من خير الدنيا والآخرة ومن حرم حظه من الرفق حرم حظه من خير الدنيا والآخرة .رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی میں سے حصہ دیا گیا ۱∞؎اور جو نرمی کے حصہ سے محروم رہا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی کے حصے سے محروم رہا ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎الله تعالیٰ نے جیسے دنیاوی جسمانی روزیوں میں بندوں کے مختلف حصے رکھے ہیں اسی لیے کوئی امیر ہوتا ہے،کوئی فقیر،کوئی دبلا،کوئی بیمار،کوئی موٹا طاقتور اور تندرست،اسی طرح اس کریم نے روحانی ایمانی روزیاں پیدا فرمائیں اور ان میں اپنے بندوں کے مختلف حصے رکھے۔یہاں ارشاد ہوا کہ جس کو لطف و کرم نرمی طبیعت سے زیادہ حصہ ملا اسے دوسری نعمتوں سے بھی کافی حصہ ملے گا۔
۲
؎یہ بات تجربہ سے بھی معلوم ہوگئی ہے کہ بدخلق سخت طبیعت آدمی اپنے کنبہ محلے میں بھی ذلیل رہتا ہے اور مسجد کی حاضری سے بھی محروم ہوجاتا ہے،محلے والے اس کا مسجد میں آنا پسند نہیں کرتے کہ وہ امام اور نمازیوں سے لڑتا ہی رہتا ہے، مسجد بھی اس سے پناہ مانگتی ہے،یہ ہے دنیا و آخرت کے حصوں سے محرومی۔سختی دل سے الله بچائے!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5076