Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5080

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلَا الْجَعْظَرِيُّ قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الْغَلِيظُ الْفَظُّ رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ فِي سُنَنِهٖ . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الْأُصُولِ فِيهِ عَنْ حَارِثَةَ. وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ " عَنْهُ وَلَفْظُهٗ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ . يُقَالُ: الْجَعْظَرِيُّ: الْفَظُّ الْغَلِيظُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ وَهْبٍ وَلَفْظُهٗ قَالَ: " وَالْجَوَّاظُ: الَّذِي جَمَعَ وَمَنَعَ. وَالْجَعْظَرِيُّ: اَلْغَلِيْظُ الْفَظُّ

وعن حارثة بن وهب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يدخل الجنة الجواظ ولا الجعظري قال: والجواظ: الغليظ الفظ رواه أبوداود في سننه . والبيهقي في شعب الإيمان وصاحب جامع الأصول فيه عن حارثة. وكذا في شرح السنة " عنه ولفظه قال: لا يدخل الجنة الجواظ الجعظري . يقال: الجعظري: الفظ الغليظ وفي نسخ المصابيح عن عكرمة بن وهب ولفظه قال: " والجواظ: الذي جمع ومنع. والجعظري: الغليظ الفظ

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جنت میں نہ تو جواظ داخل ہوگا اور نہ جعظری فرمایا اور جواظ سخت دل سخت زبان ہے۲؎ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی شعب الایمان میں اور جامع اصول والے نے اس میں حضرت حارثہ سے ایسے ہی شرح سنہ میں ہے انہیں حارثہ سے اور اس کے لفظ یہ ہیں کہ جنت میں جواظ جعظری داخل نہ ہوگا کہا جاتا ہے کہ جعظری سخت دل سخت زبان ہے۳؎اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت عکرمہ ابن وہب سے ہے،اس کے لفظ ہیں کہ فرمایا جواظ وہ ہے جو جمع کرے اور منع کرے۴؎اور جعظری سخت دل سخت زبان ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،خزاعی ہیں،حضرت عمر فاروق کے سوتیلے بیٹے اور حضرت عبدالله ابن عمر کے اخیافی بھائی ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے۔
۲
؎غلیظکے معنی ہیں سخت دل اورفظکے معنی ہیں سخت زبان کہ ہر ایک سے سخت کلامی کرے۔
۳
؎مقصد یہ ہے کہجواظاورجعظریکے ایک معنی ہیں سخت دل سخت زبان،بعض نے فرمایا کہ جعظری بڑے پیٹ والا موٹے جسم والا جو بہت کھائے کسی کو اپنے کھانے میں سے نہ کھلائے،زیادہ بولنے والا کہ ہر وقت بکے ہی جائے۔خطیب نے حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے مرفوعًا روایت کی کہ ہرشخص توبہ کرسکتا ہے سواء بدخلق کے کہ وہ ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بدتر گناہ میں گرفتار ہوجاتا ہے۔(مرقات)۴؎یعنی ناجائز مال جمع کرے اور جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہ کرے۔زکوۃ،صدقہ فطر،قربانی،بچوں کو خرچہ نہ دے یا وہ جو ہر وقت مال جمع کرنے کی فکر میں لگا رہے الله کی راہ میں خرچ کرنے کی فکر کبھی نہ کرے۔جائز مال جمع کرنا برا نہیں مگر ہر وقت جمع کی فکر میں لگا رہنا منع ہے۔خیال رکھو کہ جاری پانی پاک رہتا ہے،یوں ہی جس کنویں سے پانی نکلتا رہے وہ صاف رہتا ہے اگر نکالنا چھوڑ دیا جاوے تو گندا ہوجاتا ہے،الله کی راہ میں مال نکالتے رہو پاک صاف رہے گا۔شیخ سعدی فرماتے ہیں شعر
زکوۃ مال بدر کن کہ دفتر زرا چو باغبان بدر و بیشتر وہد انگور
زکوۃ نکالے جاؤ،انگور کی بیل کاٹتے رہنے سے زیادہ انگور دیتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5080