Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5085

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المؤمن غر كريم والفاجر خب لئيم . رواه أحمد والترمذي وأبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا مؤمن سیدھا کرم والا ہوتا ہے ۱∞؎فاجر چالاک بدخلق ہوتا ہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غربنا ہےغرورسے بمعنی دھوکا یہاں مراد ہے دیدہ دانستہ مسلمانوں سے دھوکا کھالینے والا لہذا یہ اس کی مہربانی ہے نہ کہ بے وقوفی۔ہم نے ایسے نیک لوگ دیکھے ہیں جو دیدہ دانستہ طور پر لوگوں سے دھوکا کھا کر ان کا بھلا کردیتے ہیں۔مشہور ہے کہ مولانا احمد جیون سے لوگوں نے دہلی پہنچ کر کہا کہ حضور آپ کے شہر جونپور کا دریا وہاں کے لوگوں کو ڈبو دے رہا ہے حضور پانچ سو روپیہ دیں تو دریا کو دے کر اسے اس حرکت سے باز رکھیں آپ نے دے دیئے کچھ عرصہ بعد وہ لوگ آکر بولے کہ حضور بڑی مشکل سے دریا کو پانچ سو روپیہ میں راضی کرکے شہر سے دفع کیا تو انہیں دعائیں اور انعام دیئے،عالمگیر بادشاہ نے کہا حضور یہ کیا فرمایا مسلمان جھوٹ نہیں بولتے یہ لوگ مسلمان ہیں سچ کہتے ہوں گے حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان سے دھوکا کھایا شیطان چالاک نے دھوکہ دیا یہ ہےکریماور لئیممیں فرق۔
۲
؎خببمعنی چالاک دھوکاباز اس کا نتیجہ ہےلئیمہونا جس مسلمان میں یہ عیوب ہوں وہ ان سے توبہ کرے کہ یہ کفار کے عیب ہیں،کسی کو چالاکی سے پھانس لینا کمال نہیں پھنسے کو نکال لینا کمال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5085