Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5071

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ . وَفِي رِوَايَةٍ: الْحَيَاءُ خَيْرٌٌ كُلُّهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحياء لا يأتي إلا بخير . وفي رواية: الحياء خير كله (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلى الله عليه وسلم نے کہ حیاء بھلائی ہی لاتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حیاء ساری خیر ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ شرعی حیاء کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ الله کی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں میں غورکر کے شرمندہ و نادم ہو،اس شرمندگی کی بنا پر آئندہ گناہوں سے بچنے،نیکیاں کرنے کی کوشش کرے ،جو غیرت نیکیوں سے روک دے وہ عجز ہے حیاء نہیں۔اس معنی سے یہ حدیث پاک بالکل واضح ہوگئی واقعی یہ حیا تو گویا ایمان ہی ہے خیر ہی ہے۔ (مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5071