Main Icon

باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5081

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيْزَانِ الْمُؤمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ وَإِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيث حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَرَوَى أَبُوْدَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَوَّلَ

وعن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن أثقل شيء يوضع في ميزان المؤمن يوم القيامة خلق حسن وإن الله يبغض الفاحش البذيء . رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح. وروى أبوداود الفصل الأول

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ بڑی بھاری چیز جو قیامت کے دن مؤمن کی ترازو میں رکھی جاوے گی وہ اچھی عادت ہے ۱∞؎اور الله تعالیٰ ناراض ہوتا ہے فحش گو بدخلق سے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابوداؤد نے پہلے حصہ کی روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یا تو بعینہ اچھی عادت نیکیوں کے پلے میں رکھی جاوے گی کیونکہ قیامت میں ہر چیز کی شکل بھی ہوگی اس میں وزن وغیرہ بھی ہوگا،اچھی عادت کا ثواب،چونکہ اچھی عادت رب تعالٰی کو بہت پسند ہے اس لیے اس میں وزن زیادہ ہے،وہاں وزن رضاء الٰہی سے ہوگا اخلاص کی عبادات وزنی ہوں گی ریا کی عبادات ہلکی کہ ریا کی عبادت سے رب ناراض ہے،اخلاص کی عبادت سے رب راضی،کافر کی عبادات میں کوئی وزن نہ ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا"گناہوں میں وزن رب تعالٰی کی ناراضی سے ہوگا جس قدر رب تعالٰی کی ناراضی زیادہ اس قدر گناہ میں وزن زیادہ الله محفوظ رکھے۔
۲
؎چونکہ رب تعالٰی بدخلقی بدزبانی سے ناراض ہے لہذا وہ گناہوں کے پلے میں ہوں گے اور اس گناہ میں بہت بوجھ ہوگا۔خیال رہے کہ حضور کے نیک اعمال میں اتنا وزن ہے کہ اسے کوئی ترازو تول سکتی ہی نہیں اسی لیے حضور کی نیکیاں تولی نہ جائیں گی جیسے ہماری ترازو سمندر کا پانی ہوا نہیں تول سکتی ایسے ہی قیامت کی ترازو حضور صلی الله علیہ وسلم کی نیکیاں نہ تول سکے گی،جب ان کے نام میں اتنا وزن ہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کے کروڑوں من کے گناہ ایک کلمہ محمدی سے ہلکے ہوجاویں گے کہ ہمارے کام ہلکے ہیں حضور کا نام بھاری ہے تو ان کے اعمال کیسے ہوں گے صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔شعر
دل عبث خوف سے پندسا اڑا جاتا ہے پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5081