Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2362

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَقِيَ اللّٰهَ لَا يَعْدِلُ بِهٖ شَيْئًا فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِبَالٍ ذُنُوْبٌ، غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

وعنه قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "من لقي الله لا يعدل به شيئا في الدنيا، ثم كان عليه مثل جبال ذنوب، غفر الله له". رواه البيهقي في "كتاب البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اللہ تعالٰی سے اس طرح ملے ۱؎کہ دنیا میں کسی چیز کو اس کے برابر نہ جانتا ہو۲؎پھر اس پر گناہوں کے پہاڑ ہوں تو اللہ اسے بخش دے گا ۳؎(بیہقی کتاب البعث و النشور)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس حال میں مرے۔یہاں اللہ سے ملنے سے مراد دنیا سے جانا ہے نہ کہ قیامت میں اٹھنا کہ مرتے ہی سب ایمان لے آتے ہیں،پھر قیامت میں مشرک کون ہوگا،چونکہ بعدموت دنیا کے سارے تعلقات ختم ہوجاتے ہیں،بندہ کا تعلق صرف رب تعالٰی سے رہ جاتا ہے اسی لیے موت کو اللہ سے ملنا فرمایا گیا۔
۲
؎اس طرح کہ کسی کو خدا کا شریک نہ مانتا ہو،چونکہ عرب میں عام طور پر کفار مشرکین ہی تھے اس لیے شرک کا ذکر فرمایا ورنہ موحد کافر کا بھی یہ ہی حال ہے۔خیال رہے کہ مشرک اپنے معبودوں کو خدا کے برابر ضرور مانتے ہیں کسی کو خدا کی اولاد،کسی کو خدا کا مددگار،کسی کو خدا کے مقابل اپنا کار ساز مانتے ہیں اسی لیے وہ قیامت میں اپنے شرکاء سے کہیں گے"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن "میں ملاحظہ فرمائیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ
۳
؎اگر چاہے تو بخش دے یا تو بالکل ہی بخش دے یا کچھ تنبیہ فرما کر یا کچھ سز ادے کر ،رب تعالٰی فرمایاہے:"وَیَغْفِرُمَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"لہذا یہ حدیث نہ تو قرآنی آیات کے مخالف ہے نہ عذاب کی حدیثوں کے اور نہ اس میں مسلمانوں کو گناہ پر دلیر کیا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2362