Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2351

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَرَأَ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ، قَالَ: "قَالَ رَبُّكُمْ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى،فَمَنِ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهٗ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قرأ هو أهل التقوى وأهل المغفرة، قال: "قال ربكم: أنا أهل أن أتقى،فمن اتقاني فأنا أهل أن أغفر له". رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور نے تلاوت فرمایا وہ تقویٰ اور بخشش والا ہے حضور نے فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ۱؎توجو مجھ سے ڈرے گا تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تقوٰی مصدر مجہول ہے اور اپنے مفعول کی طرف منسوب۔معنے یہ ہیں کہ میں اس لائق ہوں کہ ساری خلق مجھ سے ڈرے۔ خیال رہے کہ ڈر بمعنی ہیبت ساری مخلوق کو ہے،انبیائے کرام،اولیاءالله ،عام مؤمنین، خاص صالحین کے دل میں رب تعالٰی کی ہیبت بقدر قرب ہے جس قدر رب سے قرب زیادہ اسی قدر اس کی ہیبت زیادہ مگر خوف عذاب صرف گنہگاروں کو ہے اور خوف عقاب کفار کو لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوۡنَ"کہ وہاں خوف عذاب کی نفی ہے اور یہاں ہیبت الٰہی کا ثبوت ہے۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ خوف خدا بہت بڑی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"لہذا بڑے سے بڑا مجرم بھی میرے خوف کی وجہ سے بخش دیا جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2351