- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان
- حدیث نمبر 2355
باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2355
اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهٗ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ، فَإِذَا لَحِقَتْهٗ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيُدْخِلُ عَلٰى أَهْلِ الْقُبُوْرِ مِنْ دُعَاءِ أَهْلِ الأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، وَإِنَّ هَدِيَّةَ الأَحْيَاءِ إِلَى الأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
وعن عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق، فإذا لحقته كان أحب إليه من الدنيا وما فيها، وإن الله تعالى ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال، وإن هدية الأحياء إلى الأموات الاستغفار لهم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدﷲابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے ۱؎کہ ماں باپ بھائی یا دوست کی دعائے خیر کے پہنچنے کی منتظر رہتی ہے ۲؎پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے ۳؎اورﷲتعالٰی زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو ثواب کے پہاڑ دیتا ہے ۴؎اور یقینًا زندہ کا مردوں کے لیے تحفہ ان کے لیے دعائے مغفرت ہے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح حدیث
۱∞؎عام گنہگار مسلمان تو اپنے گناہوں کی وجہ سے، خاص نیک مسلمان اسی پشیمانی کی وجہ سے کہ ہم نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہ کرلیں،مخصوص محبوبین اپنے چھوٹے ہوئے پیاروں کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں۔تازہ میت برزخ میں ایسی ہوتی ہے جیسے نئی دلہن سسرال میں کہ اگرچہ وہاں اسے ہر طرح کا عیش و آرام ہوتا ہے مگر اس کا دل میکہ میں پڑا رہتا ہے،جب کوئی سوغات یا کوئی آدمی میکے سے پہنچتا ہے تو اس کی خوشی کی حد نہیں رہتی،پھر دل لگتے لگتے لگ جاتا ہے۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں میت سے تازہ میت مراد ہے کہ اسے زندوں کے تحفے کا بہت انتظار رہتا ہے اسی لیے نئی میت کو جلد از جلد نیاز،تیجا،دسواں،چالیسواں وغیرہ سے یادکرتے ہیں۔فقیر کی اس شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ فقط گنہگار کا ہی حال نہیں۔
۲؎دوست سے مراد خاص دوست بھی ہے اور عام دوست یعنی ہر مسلمان بھی۔زندوں کو چاہئیے کہ مردوں کو اپنی دعاؤں وغیرہ میں یاد رکھیں تاکہ کل انہیں دوسرے مسلمان یاد کریں۔اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو نیاز فاتحہ ایصال ثواب سے لوگوں کو طرح طرح کے بہانوں سے روکتے ہیں کل انہیں بھی مرنا ہے۔شعر
نام نیک رفتگان ضائع مکن تابما ند نام نیکت برقرار
۳؎اس لیے کہ یہ مدد بہت سخت حاجت کے وقت پہنچتی ہے،نیز یہ پرانے وطن کا تحفہ و ہدیہ ہوتا ہے پردیس میں دیس کا خط بھی پیارا معلوم ہوتا ہے۔
۴؎صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہر نیک عمل کا ثواب اسی شکل میں پہاڑ بن کر میت کو پہنچتا ہے اگر روٹی خیرات کی گئی تو وہ روٹی کی شکل میں اس کا ثواب میت کو ملے گا اور کپڑے کی خیرات کا ثواب کپڑے کی شکل میں مگر اس میں رب کی طرف سے بہت برکت ہوتی ہے۔
۵؎خواہ دعائے مغفرت صراحۃً ہو جیسے"رب اغفرلی ولوالدی و لجمیع المسلمین"خواہ ضمنًا جیسے ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کہ یہ چیزیں میت کی بخشش کا ذریعہ ہیں۔غرضکہ یہ حدیث قولی و عملی دونوں استغفاروں کو شامل ہے۔خیال رہے کہ یہ احادیث ان آیا ت کے خلاف نہیں"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور"لَہَا مَا کَسَبَتْ"وغیرہ کہ ان آیتوں میں بدنی عمل مراد ہیں یعنی کوئی کسی کی طرف سے فرض نماز روزہ نہیں رکھ سکتا اپنا فرض اپنے ہی کرنے سے ادا ہوگا۔اور یہ احادیث ثواب پہنچانے کے متعلق ہے،ثواب پہنچانا اور ہے ادائے فرض اور یا آیت میں ملکیت کی نفی ہے اور حدیث میں بخششکا ثبوت یعنی انسان کی ملک صرف اپنے ہی اعمال ہیں دوسروں کاکیا بھروسہ کوئی دے یا نہ دے،بغل میں توشہ منزل کابھروسہ۔شعر
توشہ اعمال اپنا ساتھ لے جاؤ اجی کون پیچھے قبر میں بھیجے گاسوچو توسہی
بعد مرنے کے تمہیں اپنا پرایا بھول جائے فاتحہ کو قبر پر پھر کوئی آئے یانہ آئے
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2355