Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2335

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُوْلَ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلٰى عَهْدِكَ، وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ،أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ". قَالَ: "وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوْقِنًا بِهَا، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهٖ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوْقِنٌ بِهَا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن شداد بن أوس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سيد الاستغفار أن تقول: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك، ووعدك ما استطعت،أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي، وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت". قال: "ومن قالها من النهار موقنا بها، فمات من يومه قبل أن يمسي، فهو من أهل الجنة، ومن قالها من الليل وهو موقن بها، فمات قبل أن يصبح، فهو من أهل الجنة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کا سردار یہ ہے ۱؎کہ تم کہو الٰہی تو میرا رب ہے،تیرے سواء کوئی معبود نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا،میں تیرا بندہ ہوں۲؎اور بقد ر طاقت تیرے عہدوپیمان پر قائم ہوں ۳؎میں اپنے کئے کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۴؎تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں مجھے بخش دے،تیرے سواء گناہ کوئی نہیں بخش سکتا ۵؎حضور نے فرمایا کہ جو یقین قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقین دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں سید وہ ہے جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں میں رجوع کریں یعنی استغفار کے الفاظ بہت ہیں مگر یہ استغفار ان تمام کی جامع ہے کیونکہ اس میں گزشتہ پر ندامت آئندہ کے لیے عہد،رب تعالٰی کے انعامات،اپنی احسان فراموشی،بے وفائی سب کچھ ہی ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ استغفار توبہ بلکہ تمام دعاؤں میں اللہ تعالٰی کی حمد،اپنی بے کسی بیان کرنا بہتر ہے پھر جیسی دعا ہو ویسی ہی حمد چاہیے۔دیکھو یہاں توبہ کرنا ہے تو پہلے اللہ کی ربوبیت اور اپنی بندگی کا اقرار کیا یعنی تو پالنے والا ہم پلنے والے،پلنے والے قصور کیا ہی کرتے ہیں پالنے والے بخشا ہی کرتے ہیں،بچے کپڑے اور بستر گندے کیا ہی کرتے ہیں ماں انہیں پاک و صاف کیا ہی کرتی ہے حالانکہ وہ رب نہیں بلکہ مربی ہے۔
۳
؎یعنی جہاں تک مجھ سے بن پڑے گا میں وہ عہد پورا کروں گا جو میثاق کے دن تجھ سے کیا ہے یا اسلام لاتے وقت تیرے پیارے حبیب سے کیا یا بیعت ہوتے وقت تیرےکسی ولی سے کیا کیونکہ یہ سارے عہد تجھ سے ہی ہیں۔بقدر طاقت کی اس لیے قید لگائی کہ طاقت سے زیادہ کی پروردگار بھی تکلیف نہیں دیتا۔
۴
؎شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ کئے سے مراد گناہ بھی ہیں اور نیکیاں بھی۔گناہ کی شرط یہ ہے کہ اس سے توبہ کی توفیق نہ ملے اور نیکی کی شرط یہ ہے کہ اس پر تکبروغرور نہ ہوجائے۔خیال رہے کہ وہ گناہ جس کے بعد گریہ وزاری،عجز و نیاز و توبہ نصیب ہو اس نیکی سے بہتر ہے جس کے بعد تکبروغرور ہو۔حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا خطاءً گندم کھالینا شیطان کے سجدوں سے افضل تھا۔
۵
؎سبحان الله !کیسی پیاری عرض و معروض ہے یعنی میں اقراری ہوں کہ کانٹے میرے پاس ہیں پھول تیرے پاس،خطائیں میری طرف سے،عطائیں تیری طرف سے،بحکم قرآن پاک ظلوم وجھول میں ہوں غفور رحیم تو ہے،جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا جو تیری شان کے لائق ہے وہ تو کر،بدکاری میں نے کرلی ستاری تو کر،گنہگاری میں نے کرلی غفاری تو کر، تیرے ایک چھینٹے سے ہمارا بیڑا پار ہے۔شعر
ماایم پر گناہ تو دریائے رحمتی آنجا کہ فضل تست چہ باشد گناہ ما
۶
؎یقین کی قید لگائی تاکہ معلوم ہو کہ بندہ دعا اور توبہ کے وقت اس کے فضل کا یقین رکھے یہ سمجھے کہ مجھے رب تعالٰی نے اپنے دروازے پر بلایا تو آیا ہوں اپنے آپ نہیں آیا اورکریم بھکاری کو بلاکر دیا ہی کرتے ہیں خالی نہیں پھیرتے جسے یہ یقین ہوگاان شاء اللهبخشا ہی جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2335