Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2338

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: مَنْ عَلِمَ أَنِّي ذُوْ قُدْرَةٍ عَلٰى مَغْفِرَةِ الذُّنُوْبِ غَفَرْتُ لَهٗ وَلَا أُبَالِيْ مَا لَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن ابن عباس عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "قال الله تعالى: من علم أني ذو قدرة على مغفرة الذنوب غفرت له ولا أبالي ما لم يشرك بي شيئا". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا اللہ تعالٰی نے جو جانے کہ میں گناہ بخش دینے پر قادر ہوں تو میں اسے بخش دوں گا کچھ پرواہ نہ کروں گا جب تک کہ وہ میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله !بہت امید افزا حدیث ہے یعنی جو مؤمن رب تعالٰی کو عذاب و مغفرت پر قادر مانے،پھر اس سے گناہ سرزد ہوجائے رب تعالٰی اپنے فضل سے اسے بخش دے گا۔مالم یشركپہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جو رب تعالٰی کو نبی کے بتانے سے ہر چیز پر قادر مانے وہ مؤمن ہی ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کی بخشش توبہ پر موقوف نہیں اسی طرح حقوق العباد کی معافی خود حق والے سے معاف کرانے پر موقو ف نہیں کہ رب تعالٰی نے اس کے بغیر بخش ہی نہ سکے قانون اور ہے قدرت کچھ اور،قانون کے ہم پابند ہیں رب تعالٰی پابند نہیں۔اس حدیث میں رب تعالٰی کی قدرت کا ذکر ہے اور حقوق العباد والی حدیث میں قانون کا ذکر لہذا احادیث آپس میں متعارض نہیں اور نہ اس میں بندوں کو گناہ پر دلیرکرنا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2338