Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2354

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ عزَّ وجلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ: يَا رَبِّ! أَنّٰى لِيْ هَذِهٖ؟ فَيَقُوْلُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "إن الله عز وجل ليرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فيقول: يا رب! أنى لي هذه؟ فيقول: باستغفار ولدك لك". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نیک بندے کے جنت میں درجے بلند فرماتا ہے ۱؎تو بندہ عرض کرتا ہے الٰہی مجھے یہ بلندی درجہ کہاں سے ملی ۲؎رب فرماتا ہے تیرے بچے کے تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ پہلے تو اس کی قبر میں معمولی درجے کی جنت کی کھڑکی کھلتی ہے پھر اعلٰی درجے کی،پھر اس سے اعلیٰ کی یا اس طرح کہ اسے خبر دی جاتی ہے کہ تیرا درجہ بلند ہورہا ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جنت تو قیامت کے بعد ملے گی درجے قبر میں کیسے بلند ہورہے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں عبدصالح سے مراد گنہگار مسلمان ہے جو بخشش کی صلاحیت و قابلیت رکھتا ہے پہلے وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوتا ہے کہ اچانک عذاب موقوف ہوکر جنت کی کھڑکی قبر میں کھل جاتی ہے لہذا یہ حدیث صرف نیکوں سے مخصوص نہیں۔
۲
؎میں تو قبر میں سو رہا ہوں اعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتا،پھر یہ تبدیلیٔ حال بغیر اعمال کیسے ہو رہی ہے۔سبحان الله !ر ب کی عطائیں بندے کے وہم سے وراء ہیں۔
۳
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نیک اولاد جو ماں باپ کو ان کے مرنے کے بعد دعائے ایصال ثواب استغفار وغیرہ سے یاد رکھے صدقہ جاریہ ہے اور رب تعالٰی کی رحمت ہے جس کے ذریعہ مردہ کو قبر میں فائدہ پہنچتا رہتا ہے۔دوسرے یہ کہ شفاعت مؤمنین برحق ہے جس کا فائدہ میت کو پہنچتا ہے،پھر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا کہنا ہی کیا۔تیسرے یہ کہ اولاد کو چاہئیے کہ ماں باپ کو دعائے خیر میں یاد رکھے حتی کہ نماز میں سلام پھیرتے وقت"رب اغفرلی ولوالدی"پڑھے،ایسا بچہ نیکو کاروں میں شمار ہوگا۔خیال رہے کہولدیعنی بچہ میں بیٹا بیٹی اور ان کی اولاد در اولاد سب شامل ہے،کبھی ساتویں پشت کی اولاد ساتویں دادا کو کام آجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2354