Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2361

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهٖ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ". قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ: "أَنْ تَمُوْتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ". رَوَى الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ أَحْمَدُ،وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَخِيرَ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى ليغفر لعبده ما لم يقع الحجاب". قالوا: يا رسول الله وما الحجاب؟ قال: "أن تموت النفس وهي مشركة". روى الأحاديث الثلاثة أحمد،وروى البيهقي الأخير في "كتاب البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی اپنے بندے کو بخشتا ہے جب تک کہ آڑ نہ واقع ہو ۱؎لوگوں نے عرض کیا یارسولآڑ کیا ہے فرمایا یہ کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے مرجائے ۲؎ان تینوں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اوربیہقی نے آخری حدیثکتاب البعث والنشورمیں روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ واقعہ ہوجائے جو بندہ اور رب تعالٰی کی رحمت کے درمیان آڑ ہے دوئی کی آڑ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَاحِدٌ
۲
؎شرک سے مراد کفر ہے کہ کفر پرموت واقع ہوجانا رحمتِ الٰہی سے بڑی مضبوط آڑ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی ہر توبہ موقوف رہتی ہے،اگر ایمان لاکر مرا تمام گزشتہ توبہ قبول ہوگئیں،اگر کفر پر ہی مرگیا تو ساری توبہ بیکار گئیں۔حق یہ ہے کہ کفار کی بعض دعائیں قبول ہوجاتی ہیں،شیطان نے درازیٔ عمر کی دعا مانگی جو کچھ ترمیم سے قبول ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2361