Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2352

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنْ كنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُوْلُ: "رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ" مِائَةَ مَرَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عمر قال: إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس يقول: "رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور" مائة مرة. رواه أحمد والترمذي وأبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے ہم اس فرمان کو ایک مجلس میں سو بار شمار کرلیتے تھے کہ عرض کرتے تھے یا رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما یقینًا تو توبہ قبول فرمانے والا ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ کام کے لیے تشریف فرما ہوتے تو تھوڑے تھوڑے وقفہ سے یہ کلمات پڑھتے تھے اور اس کثرت سے پڑھتے تھے کہ اٹھنے سے پہلے سو بار تک فرمالیتے تھے،یہ تو عام مجالس پاک کا ذکر ہے خصوصی عبادات کی مجلسوں کا کیا پوچھنا۔مغفرت و توبہ کا فرق پہلے عرض کیا گیا،نیز یہ بھی کہ یہ کلمات ہماری تعلیم کے لیے ہیں،نیز ان کا پڑھنا عبادت اورحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ درجہ کے عابد ہیں لہذا یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2352