Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2329

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ يَدَهٗ بِاللَّيْلِ، لِيَتُوْبَ مُسِيءُ النَّهَارِوَيَبْسُطُ يَدَهٗ بِالنَّهَارِ لِيَتُوْبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله يبسط يده بالليل، ليتوب مسيء النهارويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہتعالٰی اپنا دستِ کرم رات کو پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کرلے ۱؎یہ کرم نوازی اس وقت تک ہوگی جب کہ سورج پچھم سے نکلے۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ہاتھ پھیلانے سے مراد عفووکرم کا وسیع کردینا پھیلا دینا ہے۔مقصد یہ ہے کہ رب کا کرم بہت وسیع ہے، گنہگار کو ہر وقت کرم میں لینے کو تیار ہے کوئی آنے والا ہو۔
۲
؎اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجاے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ یَاۡتِیۡ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنۡفَعُ نَفْسًا اِیۡمَانُہَا" الخ۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس وقت سے ان لوگوں کی توبہ قبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں لیکن جو لوگ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوں ان کی توبۂکفربھی قبول ہوگی اور توبۂ گناہ بھی کہ انہوں نے یہ علامات قیامت دیکھی ہی نہیں۔حضرت استاذومرشد صدرالافاضل مراد آبادی قدس سرہ فرماتے تھے کہ اس وقت کے بعد انسان کی پیدائش ہی بند ہوجائے گی۔غرضکہ آیت وحدیث میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے گناہ کرتے رہے توبہ نہ کی،یہ علامت دیکھ کر توبہ کرنے لگے ان کی توبہ قبول نہیں کہ غیب کھل جانے کے بعد توبہ کیسی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2329