Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2328

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَهَبَ اللّٰه بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُوْنَ، فَيَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون، فيستغفرون الله فيغفر لهم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو توتمہیں لے جائے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کریں پھر معافی مانگیں توانہیں بخشے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے رب تعالٰی معاف کرتا کیونکہ خلقت رب تعالٰی کی صفات کا مظہر ہے اور جیسے رب کی صفت رزاق ہے ایسے ہی اس کی صفت غفار بھی ہے۔رزاقیت کا ظہور رزق و مرزوق سے ہوتا ہے غفاریت کی جلوہ گری گناہ اور گنہگار سے ہوتی ہے۔جو یہ حدیث دیکھ کر گناہ پر دلیر ہو اور پھر گناہ کرے تو کافر ہوا اور یہاں ذکر گناہ کا ہے نہ کہ کفر کا۔خلاصہ یہ ہے کہ اے گنہگار رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو بلکہ توبہ کر لے وہ غفور رحیم ہےتجھ سے گناہ کا صدور تقاضائے حکمت الٰہی ہے تم سے کوئی گناہ نہ ہو یہ ناممکن ہے۔یہاں سے جانے سے مراد ہلاک کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں آسمانوں پر پہنچا دینا،فرشتوں کے ساتھ رکھنا اور زمین پر دوسری قوم قابلِ گناہ کو بسانا مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2328