Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2348

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقْرَأُ: " قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيعًا وَلَا يُبَالِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": "يَقُوْلُ" بَدَلَ "يقْرَأ".

وعن أسماء بنت يزيد قالت: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقرأ: " قل ياعبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا ولا يبالي". رواه أحمد والترمذي، وقال: هذا حديث حسن غريب، وفي "شرح السنة": "يقول" بدل "يقرأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے سنا کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیاکی رحمت سے نا امید نہ ہو ۲؎تعالٰی سارے گناہ بخش دے گا اور پرواہ بھی نہ کرے گا ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے اور شرح سنہ میں پڑھتے تھے کی بجائے فرماتے تھے،ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابیہ انصاریہ ہیں، یزید ابن سکن کی بیٹی ہیں،بڑی عاقلہ بہادرتھیں،غزوہ تبوک میں حاضرتھیں، چوب خیمہ سے نو کفار کو قتل کیا،آپ کے حالات زندگی پہلی جلد میں بیان ہوئے۔(اشعہ)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ قول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپناہے اورعبادسے مراد غلام مسلمان ہیں۔(اشعہ)یعنی اے میرے غلام اب تو جنہوں نے گناہ کرلیے رب کی رحمت سے نا امید نہ ہو،رب تمام گناہ بخش دے گا کیونکہ تم مسلمان ہو۔یہاںیُقْرَأبمعنییَقُوْلُہے جیساکہ شرح سنہ کی روایت سے ثابت ہے کہ وہاںیَقُوْلُہے کہ آیت کریمہ"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا"الخ میں بھی محققین علماء کا یہ ہی قول ہے کہ وہاں بھیعبادیسے حضور کے بندے و غلام مراد ہیں کیونکہ کفار کے گناہ ناقابل معافی ہیں اور وہ رحمت الٰہی سے نا امید کردیئے گئے ہیں"اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔مولانا فرماتے ہیں شعر
بندہ خود خواند احمد در رشاد جملہ عالم راجواں قل یا عباد
اس سے معلوم ہوا کہ عبدالرسول،عبدالنبی کہہ سکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"
مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ
۳
؎لَایُبَالِیْسےبھی معلوم ہو رہاہےکہ یہ کلام حدیث ہے قرآنی آیت نہیں،قرآن کریم میںلایبالینہیں ہے۔(مرقات)یعنی تمام گنہگار مسلمانوں کو بخش دینے میں رب کو پرواہ بھی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ و حقوق العبادبھی لائق بخشش ہیں بجز کفر ہر گناہ کی مغفرت ہوسکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2348