Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2344

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ، فَقَالَ الرَّبُّ عزَّ وجلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الشيطان قال: وعزتك يا رب لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم، فقال الرب عز وجل: وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني لا أزال أغفر لهم ما استغفروني". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان نے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں ۱؎رب عزّوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیٔ درجات کی قسم میں انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎شیطان سے مراد ابلیس ہے اور بہکانے سے مراد اچھے عقیدوں یا اچھے اعمال سے الگ کردینا ہے یعنی میں بندوں کے مرتے وقت تک کوشش کروں گا کہ وہ بدعقیدہ ہوجائیں،اگر یہ نہ کرسکا تو کم از کم ان سے گناہ ہی کرادوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو انہیں نیکی سے روک دوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو بڑی نیکی سے روک کر چھوٹی نیکی میں مشغول کردوں گا،ابلیس کی یہ کوشش بندے کے مرتے وقت تک رہتی ہے بعد موت یہ کوشش تو ختم ہوجاتی ہے،اب قبر کے سوالات کے جوابات میں بہکاتا ہے اسی لیے بعد دفن میت کو تلقین کرنے کا حکم ہےلہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد دفن میت کے لیے شیطان سے حفاظت کی دعا فرمائی اور نہ اس آیت کے خلاف ہے کہ"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَكَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔بہر حال کوئی شخص کسی حال میں اپنے کو شیطان سے محفوظ نہ جانے اللہ کی پناہ مانگے۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام معصوم تھے اور جنت میں تھے جو جگہ محفوظ تھی مگر پھربھی شیطان نے وہاں اپنا داؤ چلادیا تو ہم نہ معصوم ہیں نہ دنیا جگہ محفوظ پھر ہم کس چیز پر شیخی ماریں۔یا اللہ تیری پناہ!۲؎یعنی اگر جان نکلتے نکلتے بندہ توبہ کرے تو معافی ہوجائے گی۔معلوم ہوا کہ غرغرہ کی توبۂ گناہ قبول ہے جیسا پہلے عرض کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2344