Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2324

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهٗ لَيُغَانُ عَلٰى قَلْبِيْ، وَإِنِّيْ لأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن الأغر المزني رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إنه ليغان على قلبي، وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اغرمزنیرضی اللّٰه عنہسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلمنے کہ میرے دل پر پردہ آتا رہتا ہے حالانکہ میں دن میں سو بار استغفار پڑھتا ہوں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یُغَانُ غینسے بنا،بمعنی پردہ اسی لیے سفید بادل کوغینکہا جاتاہے۔اس پردے کے متعلق شارحین نے بہت خامہ فرسائی کی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد حضور کی دنیا میں مشغولیت ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے سونا مراد ہے،بعض کے خیال میں اس سے مراد اجتہادی خطائیں ہیں مگر حق یہ ہے کہ یہاںغینسے مراد اپنی امت کے گناہوں کو دیکھ کر غم فرمانا ہے اور استغفار سے مراد ان گنہگاروں کے لیے استغفار کرنا ہے،حضور انورصلی اللّٰه علیہ وسلمتا قیامت اپنی امت کے سارے حالات پر مطیع ہیں،ان گناہوں کو دیکھتے ہیں، دل کو صدمہ ہوتا ہے اس صدمے کے جوش میں انہیں دعائیں دیتے ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ وغیرہ)اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے"عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ"اے مسلمانو تمہاری تکلیفیں ان پرگراں ہیں۔شعر
آنچہ تو کردی کسے باخود نہ کرو روح پاک مصطفی آمد بدرد
بدہنسیں تم ان کی خاطر رات بھر روؤ کراہو
بد کریں ہر دم برائی تم کہو ان کا بھلا ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2324