Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2333

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ رَبُّهٗ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللّٰهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ : رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللّٰهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا قالَ : رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ فَاغْفِرْ لِيْ ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهٗ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهٖ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلْ مَا شَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن عبدا أذنب ذنبا فقال: رب أذنبت فاغفره، فقال ربه: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي، ثم مكث ما شاء الله، ثم أذنب ذنبا قال : رب أذنبت ذنبا فاغفره ، فقال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي، ثم مكث ما شاء الله، ثم أذنب ذنبا قال : رب أذنبت ذنبا آخر فاغفر لي ، فقال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي فليفعل ما شاء". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرلیتا ہے پھرکہتا ہے مولیٰ میں نے گناہ کرلیا مجھے معافی دے دے ۱؎رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑبھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۲؎پھر جتنا رب چاہے بندہ ٹھہرا رہتا ہے پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہےکہتا ہے یارب میں نے گناہ کرلیا بخش دے ۳؎رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ ٹھہرا رہتا ہے جتنا رب چاہے پھر گناہ کر بیٹھتا ہے عرض کرتا ہے یارب میں نے گناہ کر لیا مجھے معافی دے تو رب فرماتا ہے کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور پکڑ بھی لیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا جو چاہے کرے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زبان سے بھی کہتا ہے اورعمل سے بھی کہ گزشتہ پرنادم ہوتا ہے اور آئندہ کے لیے بچنے کا عہد کرتا ہے اور بقدر طاقت گزشتہ گناہ کا کفارہ بھی ادا کردیتا ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ لوگوں کے مال مار کر فقط کہہ دو معافی ہوگئی۔
۲
؎یہ کلام فرشتوں سے ہوتا ہے اظہار کرم کے لیے۔مقصد یہ ہے کہ چونکہ بندے نے اپنے کو گنہگار اور مجھے غفار سمجھا میرے دروازے پر معافی مانگتا ہوا آیا میں نے اسے معاف کردیا۔
۳
؎یعنی توبہ کے وقت تو اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ کبھی گناہ نہ کروں گا مگر پھر کر بیٹھا لہذا حدیث قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں "وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا"گناہ پر اصرار اورہے اور باربار گناہ ہوجانا اور توبہ کرتے رہنا کچھ اور۔
۴
؎یعنی گناہ کرنے کا عادی اور میں بخشنے کا عادی جب تو گناہ سے بازنہیں آتا تو میں اپنے بخشنے کی عادت کیوں چھوڑ دوں تو کرتا جا میں بخشتا جاؤں،یہ فرمان گناہوں کی اجازت دینے کے لیے نہیں بلکہ وسعت مغفرت کے اظہار کے لیے ہے یعنی اس طرح بندہ اگر لاکھوں بار گناہ کرے گا میں بخش دوں گا کہ ہر توبہ کے وقت آئندہ گناہ نہ کرنے کا ہی عہد ہو مگر پھر کر بیٹھے لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کفر ہے کہ چلو گناہ میں حرج ہی کیا ہے کل توبہ کرلیں گے یہ توبہ نہیں بلکہ شریعت کا مذاق اڑانا ہے اور خدائے تعالٰی پر امن،یہ دونوں باتیں کفر ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایسے توبہ کرنے والے کو رب تعالٰی اپنی امن میں لے لیتا ہے کہ پھر اس سے گناہ ہوتے ہی نہیں،پھر فرمایا جاتا ہے کہ جو چاہے کرے جیسے پرندے کا پر کاٹ کر اس سے کہو کہ جا اڑتا پھر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2333