Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2336

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِيْ وَرَجَوْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ عَلٰى مَا كَانَ فِيْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابنَ آدمَ ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ،ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ لَوْ لَقِيْتَنِيْ بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَا تُشْرِكُ بِيْ شَيْئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال الله تعالى: يا ابن آدم! إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا أبالي، يا ابن آدم ! لو بلغت ذنوبك عنان السماء،ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي، يا ابن آدم! إنك لو لقيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے اے اولاد آدم جب تک تو مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سے آس لگائے تو میں تجھے تیرے عیوب کے باوجود بخشتا رہوں گا ۱؎میں بے پرواہ ہوں اے ابن آدم اگر تیرے گناہ کنارۂ آسمان تک پہنچ جائیں ۲؎پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا کچھ پرواہ نہ کروں گا اے اولاد آدم اگر تو زمین بھرکر خطاؤں کے ساتھ ملے مگر ایسے ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر بخشش کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا۳؎(ترمذی،

شرح حدیث

۱∞؎علمائے کرامعلیٰ ماکے معنے(باوجود)کرتے ہیں یعنی تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا،میں آنے والے کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا۔صوفیائے کرام اس کے معنے کرتے ہیں مطابق یعنی تجھے تیرے گناہ کے مطابق بخشوں گا چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش بڑے گناہ کی بڑی بخشش، لاکھوں گناہو ں کی لاکھوں بخششیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے۔شعر
گنہ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب نہ شمار ہے
۲
؎عنانعین کے فتح سے بمعنی بادل اور عین کے زیر سے بمعنی ظاہر اورعنانعین کی جمع،بمعنی کنارہ،بعض نسخوں میناعنانبھی ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر تو گناہوں میں ایسا گھر جائے جیسے زمین آسمان سے گھری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں بیچ میں تو ہو پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا،بلکہ آسمان زمین کی چکی سب کو پیس دیتی ہے اس کے سوا جو رب سے لگ جائے۔کسی ہندی شاعر نے کیا خوب کہا۔شعر
چکیا چکیا سب کہیں اور کلیا کہے نہ کوئے جو کلیا سے لاگا اس کا بال نہ بیکا ہوئے
۳
؎قرابقاف کے زیر یا پیش سے،بمعنی قریب المقدار۔مشارق میں فرمایا کہقرابکسرہ سے تلوار کی میان اور سوار کا ہلکا توشہ اور ضمہ سے بمعنی قرب۔مطلب یہ ہے کہ جیسے رازق ہر مرزوق کو بقدر حاجت روٹی دیتا ہے،ہاتھی کو من اور چیونٹی کو کن دیتا ہے، ایسے ہی وہ غفار بقدر گناہ مغفرت عطا فرمائے گا مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو غدار نہ ہو اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنی کفر ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَكَ بِہٖ"اور نبی یا کتاب یا اسلامی احکام میں سے کسی کا انکار در حقیقت رب تعالٰی کا ہی انکار ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اور اس میں کفار کی مغفرت کا وعدہ نہیں کفر و مغفرت میں تضاد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2336