Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2346

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتّٰى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن معاوية قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة، ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها". رواه أحمد وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بند نہ ہوگی ۱؎حتی کہ توبہ بند ہو اور توبہ بند نہ ہوگی حتی کہ سورج اپنے مغرب کی طرف سے نکلے ۲؎(احمد،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ہجرت کے معنے ہیں چھوڑنا یا منتقل ہونا،یہاں اس سے مراد کفر سے ایمان کی طرف،دار شرک سے دارالسلام کی طرف،گناہوں سے توبہ کی طرف،غفلت سے بیداری کی طرف،کفران سے غفران کی طرف منتقل ہونا ہے، یہ ہجرتیں قریب قیامت تک ہوتی رہیں گی۔مکہ معظمہ سے ہجرت غلبۂ کفر نہ رہنے کی بنا پرختم ہوچکی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا"لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْیَوْمِ"اور حضرت عباس کو ختم المہاجرین قرار دیا گیا یعنی مکہ معظمہ سے آخری مہاجر لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ توبہ اور ہجرتوں کا سلسلہ قریب قیامت تک قائم رہے گا۔خیال رہے کہ اسلام میں نہ زمین گھومتی ہے نہ آسمان بلکہ چاند سورج اور تارے آسمان پر تیر رہے ہیں جیسے سمندر میں کشتیاں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلٌّ فِیۡ فَلَكٍ یَّسْبَحُوۡنَ"تو جو رب انہیں ہمیشہ مشرق سے مغرب کی طرف تیرانے پر قادر ہے وہ اس کے برعکس بھی تیرا سکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2346