Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2353

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِيْ عَنْ جَدِّي أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:"مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهٗ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، لَكِنَّهٗ عِنْدَ أَبِيْ دَاوُدَ هِلَالُ بْنُ يَسَارٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن بلال بن يسار بن زيد مولى النبي صلى الله عليه وسلم قال: حدثني أبي عن جدي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"من قال: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه، غفر له وإن كان قد فر من الزحف". رواه الترمذي وأبو داود، لكنه عند أبي داود هلال بن يسار، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بلال بن یسار ابن زید سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو یہ پڑھا کرے معافی مانگتا ہوں اس اللہ سے جس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں تو اس کی بخشش کردی جائے گی اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)لیکن ابوداؤد کے نزدیک راوی ہلال ابن یسار ہیں اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎غلام رسول اللہ ہونا حضرت زید کی صفت ہے نہ کہ بلال کی اور یہ زید ابن حارثہ نہیں ہیں بلکہ یہ زید ابن بولیٰ نوبی ہیں جن کی کنیت ابو یسار ہے،زید تو صحابی ہیں مگر ان کے بیٹے یسار اور پوتے بلال وغیرہ تابعی ہیں،ان بلال سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے جیساکہ ابن حجر نے تقریب میں اور ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا۔
۲
؎یعنی جہاد میں دشمن کے مقابلہ سے بزدلی کی بنا پر بھاگ جانا بدترین گناہ ہے مگر اس استغفار کی برکت سےان شاء اللهوہ بھی معاف ہوجائے گا جیسے دواؤں کی جڑیاں بوٹیاں مختلف تاثیریں رکھتی ہیں کوئی معمولی بیماری میں مفید ہوتی ہے،کوئی سخت خطرناک بیماری میں ایسی روحانی بیماریوں کے لیے دعاؤں کے الفاظ مختلف تاثیر رکھتے ہیں یہ استغفار بدترین گناہوں کی بخشش کے لیے مفید ہے مگر وہ تاثیریں طبیب کو معلوم ہوتی ہیں اور یہ تاثیریں حبیب کو معلوم ہیں ہم،ان سے بے خبر ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ توبہ سچے دل سے ہو تب اس کی یہ تاثیریں ہیں کہ توبہ کے وقت آئندہ گناہ سے بچنے کا پورا ارادہ ہو،گناہ پر قائم رہتے ہوئے منہ سے توبہ توبہ بول دینا ایک طرح کا مذاق ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ بعض وقت جہاد سے بھاگ جانا جائز بھی ہوتا ہے جب کہ کفار کی یلغار بہت ہی زیادہ ہوجائے اور اب ٹھہرنا ہلاکت ہی ہو اس صورت میں ڈٹا رہنا جان دے دینا بہت ثواب ہے مگر بھاگ جانا بھی گناہ نہیں اورکبھی بھاگنا جنگی چال ہوتی ہےکہ یہاں سے ہٹ کر مضبوط مرکز پر پہنچیں پھر وہاں جم کرجنگ کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ"یہ بھاگنا ثواب ہے نہ بھاگنا گناہ اور بلاوجہ بزدلی سے چھوڑکر بھاگ جانا سخت گناہ،وہ ہی یہاں مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پرکوئی اعتراض نہیں۔
۳
؎یعنی بلال کے نام میں اختلاف ہوگیا،بعض محدثین ہلالہسے فرماتے ہیں،بعض بلالبسے مگربسے ہی زیادہ مشہور ہے۔حافظ منذری نے فرمایا کہ یہ حدیث بہت جید ہے،اس کی اسناد متصل ہے اوراس میں کوئی راوی ضعیف نہیں اور بہت طرق سے مروی ہے۔و الله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2353