Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2326

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِيْمَا يَرْوِيْ عَنِ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَنَّهٗ قَالَ: "يَا عِبَادِيْ! إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰى نَفْسِيْ وَجَعَلْتُهٗ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهٗ، فَاسْتَهْدُوْنِيْ أَهْدِكمْ، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ أُطْعِمْكُمْ، يَا عِبَادِيْ! كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهٗ، فَاسْتَكْسُوْنِيْ أَكْسُكُمْ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا، فَاسْتَغْفِرُوْنِيْ أَغْفِرْ لَكُمْ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّيْ فَتَضُرُّوْنِيْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِيْ فَتَنْفَعُوْنِيْ، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانوُا عَلٰى أَتْقٰى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُوْنِيْ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهٗ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيْهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيْكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللّٰهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فيما يروي عن الله تبارك وتعالى أنه قال: "يا عبادي! إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما، فلا تظالموا، يا عبادي! كلكم ضال إلا من هديته، فاستهدوني أهدكم، يا عبادي! كلكم جائع إلا من أطعمته، فاستطعموني أطعمكم، يا عبادي! كلكم عار إلا من كسوته، فاستكسوني أكسكم، يا عبادي! إنكم تخطئون بالليل والنهار، وأنا أغفر الذنوب جميعا، فاستغفروني أغفر لكم، يا عبادي! إنكم لن تبلغوا ضري فتضروني، ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني، يا عبادي! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أتقى قلب رجل واحد منكم، ما زاد ذلك في ملكي شيئا، يا عبادي! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب رجل واحد منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئا، يا عبادي! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد، فسألوني فأعطيت كل إنسان مسألته، ما نقص ذلك مما عندي إلا كما ينقص المخيط إذا أدخل البحر، يا عبادي! إنما هي أعمالكم أحصيها عليكم ثم أوفيكم إياها، فمن وجد خيرا فليحمد الله، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فر ماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روایتوں میں جو حضور اپنے رب تبارک و تعالٰی سے روایت فرماتے ہیں کہ رب نے فرمایا اے میرے بندوں میں نے ظلم کو اپنے نفس پر حرام فرمالیا ہے ۱؎اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا۲؎لہذا ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو بجز اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو ہدایت دوں گا۳؎اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو بجز اس کے جسے میں روزی دوں لہذا مجھ سے کھانا مانگو تمہیں دوں گا اے میرے بندو تم سب ننگے ہو بجز اس کے جسے میں پہناؤں لہذا مجھ سے لباس مانگو میں دوں گا۴؎اے میرے بندو تم دن رات کے خطا کار ہو اور میں سارے گناہ بخشتا رہتا ہوں مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا ۵؎اے میرے بندو تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو ۶؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے کسی بڑے پرہیزگار کے دل پر متفق ہو جائیں ۷؎تو تمہارا یہ متفقہ تقویٰ میرے ملک میں کچھ بڑھائے گا نہیں ۸؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن اپنے میں سے کسی بڑے بدکار کے دل پر متفق ہوجائیں تو تمہاری یہ متفقہ بدکاری میرے ملک میں کچھ کمی نہ کر دے گی ۹؎اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان و جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے بھیک مانگیں پھر میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلہ ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے ۱۰؎اے میرے بندو میں تمہارے اعمال شمار میں رکھ رہا ہوں پھر ان کا بدلہ تمہیں پورا پورا دوں گا ۱۱؎جو نیکی پائے تو وہ اللہ کی حمدکرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ صرف اپنے کو ہی ملامت کرے۱۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں حرمت سے مراد شرعی حرمت نہیں کیونکہ حق تعالٰی پر نہ کوئی حاکم ہے اور نہ اس پر شرعی احکام جاری ہیں بلکہ اس سے مراد ہے برتر ہونا،منزہ ہونا،پاک ہونارب تعالٰی کے لیے کوئی شے ظلم ہوسکتی ہی نہیں کیونکہ ظلم کے معنی ہیں دوسرے کی ملک میں زیادتی کرنا یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا ان دونوں سے پروردگار پاک ہے کیونکہ ہر چیز اس کی ملک ہے اور جس کے استعمال کے لیے جو جگہ مقرر فرمادے وہی اس کا صحیح مصرف ہے اس کے افعال یا عدل ہیں یا فضل۔اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ظلم سے منزہ اور پاک ہوں،میرا کوئی کام ظلم نہیں ہوسکتا۔بعض نے فرمایا کہ یہاں ظلم سے مراد بے قصور کو سزا دینا ہے۔والله اعلم!۲؎لہذا تم کسی پر جانی مالی یا آبرو ریزی کا ظلم نہ کرو یہ تمام جرموں سے بڑا جرم ہے کہ یہ حق العباد ہے توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا۔
۳
؎اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پیدائش تاریکی میں ہوئی پھر ہم پر نور کا چھینٹا دیا گیا اگر ہم کو ہمارے نفسوں پر چھوڑ دیا جائے تو ہم عقیدتًا عملًا بدی ہی کریں گے،اگر وہ اپنا فضل کرے تو ہم نیکی کریں،ہم ببول کا درخت ہیں، ہمارے پاس سواء گناہوں کے کانٹوں کے اور کیا ہے، ہماری صفت ہے"اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ بچہ فطرت یعنی توحید پر پیدا ہوتا ہے کہ وہاں دنیا میں آنے کا ذکر ہے اور یہاں ہماری اصل پیدائش کا۔خیال رہے کہ حضرات انبیاءواولیاءبھی رب تعالٰی ہی کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہیں مگر وہ ہمارے لیے ہدایت کا مرکز ہیں کہ ہم ان سے ہی ہدایت لے سکتے ہیں جیسے سورج کو نور رب تعالٰی نے دیا ہے مگر چاند تارے اور زمین اس سے ہی نور لیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّكَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ
۴
؎یعنی تم روحانی و جسمانی غذاؤں میں میرے محتاج ہو اسی طرح قلب قالب،روح کے لباس میں میرے حاجت مند ہو،غذا کا ہر حیوان حاجت مند ہے اور لباس کا صرف انسان۔خیال رہے کہ تما م انبیاء اولیاء اور بادشاہ رب تعالٰی کے حاجت مند ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَللّٰہُ الْغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ" مگر اس کے محبوب بندے مخلوق کے حاجت روا ہیں باذن پروردگار،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔بادل بھی رب کا محتاج اور زمین بھی مگر بادل زمین کا محتاج الیہ ہے کہ ہر وقت زمین کو بادل کی ضرورت ہے۔
۵
؎خطاکے معنی ہیں غلط راستہ پر چلنا بھول کر ہو یا جان بوجھ کر لہذا اس میں خطائیں،بھول چوک،عمدًا گناہ سب داخل ہیں۔علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ یہاں روئےسخن عام بندوں سے ہے معصومین حضرات جیسے فرشتے،انبیاء اس حکم سے خارج ہیں کہ اگرچہ بعض انبیاء سے خطائیں سرزد ہوئیں مگر عمر بھر میں ایک دو نہ کہ دن رات اور ہر وقت،نیز ان کی وہ خطائیں بھی ان کی شان کے لائق ہیں ہماری عبادتوں سے افضل ہیں، سارے عالم کا ظہور حضرت آدم کی ایک خطا کی برکت سے ہے لہذا اس سے عصمت انبیاء پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔
۶
؎اس کی شرح اگلے جملے سے ہورہی ہے کہ تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میرا نقصان نہیں بلکہ ان میں نفع نقصان خودتمہارا ہے۔
۷
؎یعنی دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔اس ترجمہ سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔
۸
؎لہذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سے رب تعالٰی کے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانہ پر بلالیا۔
۹
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملہ میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے،آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے،خزانہ خالی رہ جاتا ہے مگر رب تعالٰی وہ بے نیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔خیال رہے کہ یہ مضمون ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے کہ اگر رب تعالٰی کے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اسے پوجتا نہ رب تعالٰی کے اولاد ممکن ہے نہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے پوجنا ممکن،ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگار ہوجانا غیرممکن ہے فرشتے،انبیاءمعصومین اور اولیاء محفوظین بفضلہ تعالٰی گناہ کرتے ہی نہیں۔ر ب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَكَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔غرضکہ اس جملے سے عصمت انبیاء کے خلاف دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
۱۰
؎اس جملے کا یہی ترجمہ درست ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میری یہ عطا میرے خزانوں کی سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو روشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقًا کمی نہ ہوئی،جب رب تعالٰی کی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ رب تعالٰی کے خزانے غیرمحدود ہیں اور اسکی عطائیں محدود کیونکہ لینے والے محدود اور محدود کی غیر محدود سے نسبت کیسی۔
۱۱
؎اس طرح کہ نیک کار کی جزاء میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں۔یہاں عدل کا ذکر ہے عدل فضل کے خلاف نہیں لہذا حدیث واضح ہے نہ آیات قرآنی کے خلاف ہے اور نہ دیگر احادیث کے مخالف۔
۱۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کو رب تعالٰی کی توفیق سے سمجھے اور گناہوں کو اپنی شامت نفس سے جانے بلکہ ہرنقص کو اپنی طرف منسوب کرے اور کمال کو رب تعالٰی کی طرف،ابراہیم علیہ السلام نے فرمایاتھا:"وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیۡنِ"بیمار میں ہوتا ہوں شفاءوہ دیتاہے ورنہ ہر خیروشر کا خالق و مالک رب تعالٰی ہی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں"وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللهِ تَعَالٰی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2326