Main Icon

باب : بخشش مانگنے اور توبہ کرنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2360

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِهٰذِهِ الآيَةِ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا الْآيَةَ "، فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: "أَلا وَمَنْ أَشْرَكَ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

وعن ثوبان قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما أحب أن لي الدنيا بهذه الآية قل ياعبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا الآية "، فقال رجل: فمن أشرك؟ فسكت النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: "ألا ومن أشرك" ثلاث مرات.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھے اس آیت کے عوض ساری دنیا مل جاتی ۱؎اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ناامید نہ ہوؤ ،الخ ۲؎ایک شخص بولا تو جو شرک کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا یقینًا جو شرک کرے تین بار فرمایا(یعنی اس کی توبہ بھی قبول ہوگی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎پھر میں اس دنیا سے لذات و خیرات سب کچھ حاصل کرتا۔
۲
؎اس آیت میںعبادیسے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے غلام ہیں اور زیادتی سے مراد گناہ کرتے رہنا ہے،انہی سے مغفرت کا وعدہ ہے کہ شرک و کفر کی معافی نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَكَ بِہٖ
۳
؎یعنی شرک و کفر بھی بخش دیا جائے گا بشرطیکہ بندہ اس سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائے،جو کفر پر مرگیا اس کی مغفرت نہیں مگر مومن گناہ گار اگر بغیر توبہ بھی مرجائے تب بھی بخشا جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث مذکورہ آیت کے خلاف نہیں۔
حکایت:حضرت وحشی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ اسلام میں شرک،قتل،زنا بہت بڑے بڑے گناہ ہیں اور میں نے یہ تینوں کئے ہیں میری بخشش کیسے ہوگی،تب یہ آیت کریمہ آئی"
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا"وحشی بولے کہ مغفرت کی یہ شرطیں بہت سخت ہیں تو یہ نیک اعمال وغیرہ مجھ سے کیسے ہوں گے تب یہ آیت سنائی گئی"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"وحشی بولے اب بھی میری تسلی نہیں ہوتی نہ معلوم میری بخشش ہوگی یا نہیں تب یہ آیت نازل ہوئی"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا"الخ تب وحشی بولے بس بس مجھے کافی ہے کافی ہے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا یہ بشارتیں صرف وحشی کے لیے ہیں فرمایا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے۔(تفسیرمعالم التنزیل و مرقات)غرضکہ یہ آیت بہت ہی امید افزاء ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2360