Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3654

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى بَعَثَنِيْ رَحْمَةً لِلْعَالِمِيْنَ، وَهُدًى لِلْعَالَمِيْنَ، وَأَمَرَنِيْ رَبِّيْ عَزَّوَجلَّ بمَحْقِ الْمَعَازِفِ، وَالْمَزَامِيْرِ، وَالأَوْثَانِ، وَالصُّلُبِ، وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَحَلَفَ رَبِّيْ عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِيْ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيْدِيْ جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهٗ مِنَ الصَّدِيْدِ مِثْلَهَا، وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِيْ إِلَّا سَقَيْتُهٗ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي أمامة قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى بعثني رحمة للعالمين، وهدى للعالمين، وأمرني ربي عزوجل بمحق المعازف، والمزامير، والأوثان، والصلب، وأمر الجاهلية، وحلف ربي عز وجل بعزتي: لا يشرب عبد من عبيدي جرعة من خمر إلا سقيته من الصديد مثلها، ولا يتركها من مخافتي إلا سقيته من حياض القدس". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت اور جہانوں کے لیے ہدایت بھیجا ۱؎اور مجھے میرے عزت و جلال والے رب نے حکم دیا باجوں،بانسری،الغوزوں۲؎اور بتوں اور صلیبوں اور جاہلیت کی چیزیں مٹانے کا ۳؎اورمیرے رب عزوجل نے میری عزت کی قسم فرمائی کہ کوئی بندہ میرے بندوں میں ایک گھونٹ شراب نہ پئے گا مگر میں اتنی ہی پیپ اسے پلاؤں گا ۴؎اور نہ چھوڑدے اسے میرے خوف سے مگر اسے پاک حوضوں سے پلاؤں گا ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری رحمت کفار کو بھی پہنچی کہ وہ دنیاوی عذاب سے بچ گئے اور حضور کی باطنی رحمت یعنی ہدایت سے کفار نے فائدہ نہ اٹھایا،حضور کی رحمت فرشتوں جنات انسان بلکہ تمام مخلوقات کو ملی، اس کی نفیس تفسیر ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں ملاحظہ کیجئے۔
۲
؎معازفجمع ہےمعزفکی جس کا مادہعزفہے بمعنی کھیل،معزفبروزنمنبرکھیل کا آلہ ۔اصطلاح میں ہر باجہ کومعزفکہا جاتا ہے اورمزامیرجمع ہےمزمارکی جس کا مادہزمرہے بمعنی گانے کی آواز۔ اصطلاح میں بانسری الغوزہ وغیرہ کو مزامیر کہا جاتا ہے یعنی مجھے رب تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ ہر باجہ گانے کو مٹادوں۔خیال رہے کہ جھانج تو مطلقًا حرام ہے دوسرے باجے اگر غرض صحیح کے لیے استعمال کیے جائیں تو حلال ہیں،کھیل تماشہ کے لیے بجائے جائیں تو حرام۔چنانچہ غازیوں کا طبل جو جنگ وغیرہ میں اعلان کے لیے بجایا جائے یا دف تاشہ اعلان نکاح کے لیے حلال ہے،یوں ہی عیدوشادی کے موقعہ پر چھوٹی بچیوں کا دف بجانا احادیث میں آیا ہے اس کے احکامان شاءاﷲاپنے موقعہ پر آئیں گے۔
۳
؎صلبجمع ہےصلیبکی جس کا مادہصلبہے بمعنی صولی،صلیب صولی دینے کا آلہ،یہ عیسائیوں کی معظم چیز ہے جسے وہ پوجتے ہیں اور جاہلیت سے مراد زمانہ جاہلیت کی ناجائز رسمیں ہیں جیسے نوحہ،ماتم،خاندانی فخر،ستاروں سے بارش مانگنا۔خیال رہے کہ جزیرہ عرب میں سواء اسلام کے کسی ملت کی اجازت نہیں اس لیے عرب سے صلیب مٹائی جائے گی۔عرب کے سواء دوسرے اسلامی ممالک میں ذمی کفار کو مذہبی آزادی دی جائے گی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں،اسلام میں تو ذمی کفار کو مذہبی آزادی ہے پھر صلیب مٹانے کے کیا معنی کہ یہ حکم جزیرہ عرب کے لیے ہے یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں میں سے صلیب وغیرہ کو مٹاؤں کہ انہیں اس کی تعظیم سے دور رکھوں۔
۴
؎یعنی بعد قیامت دوزخ میں اسے دوزخیوں کی پیپ پلاؤں گا۔
۵
؎قدسکے حوض سے مراد جنت کے حوض ہیں جن میں حوض کوثر بھی داخل ہے یعنی جو شخص شراب کا عادی تھا پھر رحمت خدا نے دستگیری کی کہ محض خوف خدا کی بنا پر توبہ کرلی اسے ان حوضوں سے پلایا جائے گا ترک کے یہ معنی ہوتے ہیں،ممکن ہے کہ اس میں وہ بھی داخل ہو جو شرابیوں میں پھنس کر شراب سے بچے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3654