Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3643

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا؛ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا،فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللّٰهُ عَلَيْهِ، وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من شرب الخمر لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا؛ فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد في الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا،فإن تاب لم يتب الله عليه، وسقاه من نهر الخبال". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے شراب پی توتعالٰی قبول نہ کرے گا اس کی چالیس دن کی نماز ۱؎پھر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول فرمائے گا۲؎پھر اگر لوٹے تواس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول کرلے گااگر پھر لوٹے تو اللہ اس کی چالیس دین کی نمازیں قبول نہ کرے گا ۳؎پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول کرلے گا۴؎اگر پھر چوتھی بار لوٹے تواس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول نہ کرے گا۵؎اور اسے خبال کی نہر سے پلائے گا ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎صباحسے مراد دن ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت آدم کی مٹی چالیس صبح خمیر کی گئی یعنی چالیس دن،بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد صبح کی نماز یعنی نماز فجر ہی ہے،حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شراب پی لے اور توبہ نہ کرے تو چالیس دن تک اس کی عبادت میں لذت حضور قلبی میسر نہ ہوگا جس کی وجہ سے وہ عبادات اگرچہ ادا تو ہوجائیں گی مگر قبول نہ ہوں گی نماز فرمایا گیا اور تمام عبادات مراد لی گئیں کہ نماز سب سے افضل عبادت ہے جب وہ ہی قبول نہ ہوئی تو دوسری عبادات بدرجہ اولیٰ قبول نہ ہوں گی کیونکہ شراب ام الخبائث ہے اور نماز ام العبادات جو ام الخبائث پئے گا وہ ام العبادات کی قبولیت سے محروم رہے گا بعض روایات میں ہے کہ جو شراب پیئے گا اس کے سینہ سے نور ایمانی نکل جائے گا۔(مرقات واشعہ و لمعات)
۲
؎توبہ کی حقیقت ہے گزشتہ پر ندامت،آئندہ کے لیے نہ کرنے کا عہد،اسی طرح شراب سے توبہ چاہیے کہ آئندہ اس کے قریب نہ جانے کا عہد کرے۔
۳
؎یعنی اگر توبہ کرتے وقت مکمل عہد کیا کہ اب کبھی نہ پئیوں گا پھر شیطان نے بہکادیا اور پی لی۔چالیس کا عدد اس لیے بیان ہوا کہ شراب کا اثر چالیس دن تک بدن میں رہتا ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ہر غذا اور پانی کا اثر جسم میں چالیس دن تک رہتا ہے جو کوئی چالیس دن اخلاص سے عبادت کرے تو اس کے دل و زبان سے حکمت کے چشمے بہنے لگتے ہیں جو حضور کی چالیس حدیثیں مسلمانوں تک پہنچائے اسےتعالٰی محدثین و فقہاء کے زمرہ میں حشر نصیب فرمائے گا،موسیٰ علیہ السلام سے چالیس کا چلہ کرایا گیا،فرماتا ہے:"وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوۡسٰۤی اَرْبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً"۔غرض چالیس کے عدد کی عبادات اور گناہوں میں عجیب تاثیر ہے۔(مرقات) چالیس عدد کے برکات ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھئے۔
۴
؎یعنی طاعت کے ساتھ توبہ کرے حق تعالٰی مغفرت کے ساتھ قبول فرمالے گا۔
۵
؎یعنی جو تین بار شراب سے توبہ کرکے توڑ دے تو اب اسے توبہ قبول کی توفیق نہ ملے گی،اب صرف زبان سے تو توبہ کہے گا دل سے توبہ نہ کرسکے گا لہذا یہ توبہ قبول نہ ہوگی،یہ شراب نوشی کی نحوست ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جو ابو داؤد و ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق سے روایت کی کہ جو شخص دن میں ستر بار گناہ کرے اور ستر بار توبہ کرے تو وہ گناہ پر مصر نہیں کہ وہاں توبہ مقبول مراد ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ ازْدَادُوۡا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہۡدِیَہُمْ سَبِیۡلًا"۔یہ حدیث اس آیت کریمہ کی اشارۃً شرح فرمارہی ہے،فقیر کی یہ تقریر خوب یاد کرلینی چاہیے۔
۶
؎خبال دوزخیوں کا خون و پیپ اس کثرت سے بہے گا کہ اس کی نہر بہہ جائے گی،شرابی سخت پیاسے اٹھیں گے پانی مانگیں گے تو انہیں بجائے پانی کے یہ دیا جائے گا جو انہیں شدت پیاس کی وجہ سے پینا پڑے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3643