Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3638

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ فَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كل مسكر خمر، وكل مسكر حرام، ومن شرب الخمر في الدنيا فمات فهو يدمنها لم يشربها في الآخرة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے ۱؎اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو دنیا میں شراب پیئے پھر اس پر دوام کرتے مرجائے تو وہ آخرت میں نہ پی سکے گا۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں لغوی معنی کا ذکر نہیں ہے بلکہ حکم شرعی کا ذکر ہے کہ جو شئے نشہ دے وہ حکمًا خمر ہے کہ حرام بھی ہے اور اس پر اسی۸۰ کوڑے حد بھی ہے۔معلوم ہوا کہ غیرمسکر شراب خمر کے حکم میں نہیں کیونکہ عربی لغت میں خمر صرف انگوری شراب کو کہتے ہیں۔چنانچہ بخاری شریف نے حضرت ابن عمر کا قول نقل فرمایاحرمت الخمر وما بالمدینۃ منھا شیئجب خمر حرام کی گئی تو مدینہ میں وہ بالکل نہ تھی،کون نہ تھی شراب انگوری،دوسری شرابیں تو وہاں اس وقت بہت زیادہ تھیں جیساکہ حضرت انس کی حدیث میں ہے کہ اس وقت مدینہ پاک میں کھجور کی شراب بہت تھی،نیز ابن عوف نے ابن شداد سے بروایت حضرت ابن عباس نقل فرمایاحرمت الخمر قلیلھا وکثیرھاوالمسکرمن کل شراب(اس کی اسناد نہایت صحیح ہے)یعنی خمر تو تھوڑی ہو یا بہت مطلقًا حرام ہے اس کے سواء دوسری شرابیں نشہ آور ہوں تو حرام ہیں۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ خمر اور دوسری شرابوں کے احکام میں فرق ہے۔(مرقات)خمر کا ایک قطرہ پینے پر حد ہے دوسری شرابوں میں حد نشہ تک پینے میں حد ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیںفاذا سکرفاجلدوہوہ جب نشہ ہو تو کوڑے مارو۔(مرقات) دارقطنی نے حضرت عمر و علی رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ نقل فرمایا کہ ایک بدوی نے آپ کے برتنوں سے نبیذ پیا اسے نشہ ہوگیا تو انہوں نے اسے حد لگائی وہ بولا کہ میں نے تو آپ کے برتن سے نبیذ پیا تھا انہوں نے فرمایا کہ تجھے سزا نشہ کی وجہ سے دی گئی اس طرح ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ ابن نمیر عن حجاج عن ابن عوف عن عبدا بن شدادعن ابن عباس روایت کیفی السکرمن النبیذ ثمانین۔بہرحال مذہب امام ابوحنیفہ بہت قوی ہے، حد شبہات سے دفع ہوجاتی ہے،غیرخمر دوسری شرابیں ہیں اگر مسکر نہ ہوں تو ان کی حرمت میں شک تو ہے پھر اس میں حد کیسی۔
۲
؎یعنی اگر حلال جان کر پیتا رہا تو کافر ہوا کافر جنت سے محروم ہے اور اگر حرام جان کر پیتا رہا تو اگرچہ جنت میں پہنچ جائے اور وہاں کی تمام نعمتیں برتے مگر شراب کبھی نہ پائے گا۔بعض شارحین نے فرمایا ہے کہ جس مدت تک شراب پیتا رہا ہے اس مدت تک نہ پائے گا یا زیادہ مقدار میں نہ پائے گا بہت تھوڑی ملے گی،بعض نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اول سے شراب طہور نہ ملے گی،غرضکہ اس جملہ کی بہت سی توجیہیں کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ شراب طہور جنت کی اعلیٰ نعمت ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ سَقاھُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوۡرًا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3638