Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3637

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نبَيذُ الْعَسَلِ فَقَالَ: "كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البتع وهو نبيذ العسل فقال: "كل شراب أسكر فهو حرام". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سےبتعکے بارے میں پوچھا گیا اور وہ شہد کی شراب ہے ۱؎تو فرمایا ہر شراب جو نشہ دے وہ حرام ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ شہد کو شربت بناکر برتن میں بھر لیتے ہیں حتی کہ گرم ہوکر جھاگ چھوڑ دیتا ہے نشہ دینے لگتا ہے،اسےبتعب کے کسرہ سے ت کے سکون یا فتحہ سے۔
۲
؎اس کے معنی امام ابوحنیفہ قدس سرہٗ کے نزدیک یہ ہیں کہ غیر انگوری شراب نشہ دے تو حرام ہے غیر منشّی تھوڑی سی نشہ کی بنا پر حرام نہیں،باقی آئمہ کے ہاں اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ جو شراب نشہ آور ہوتی ہے وہ مطلقًا حرام ہے تھوڑی ہو یا بہت،انگوری ہو یا کوئی اور مگر یہ حدیث بظاہر امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے کہ یہاں حرمت کو نشہ پر معلق کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3637