Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3647

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنَ الشَّعِيْرِ خَمْرًا، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الزَّبِيْبِ خَمْرًا، وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن من الحنطة خمرا، ومن الشعير خمرا، ومن التمر خمرا، ومن الزبيب خمرا، ومن العسل خمرا". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گیہوں سے شراب ہوتی ہے اور جو سے شراب ہوتی ہے اور کھجور سے شراب ہوتی ہے اور کشمکش سے شراب ہوتی ہے اور شہد سے شراب ہوتی ہے،۲؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری صحابی ہیں،ہجرت کے بعد انصار میں پہلے آپ ہی پیدا ہوئے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی،کوفہ میں قیام رہا،امیر معاویہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم رہے ،پھر حمص کے حاکم ہوئے وہاں ہی آپ کو ۶۴ھ؁ ∞ میں قتل کردیا گیا۔
۲
؎مرقات نے فرمایا کہ ان تمام شرابوں کو خمر فرمانا مجازًا ہے یعنی یہ شرابیں گویا خمر ہی ہیں کہ عقل بگاڑنے بے ہوش و نشہ کردینے میں خمر کا کام کرتی ہے اور ان کے نشہ پر بھی خمر کے نشہ کے احکام جاری ہیں ورنہ خمر صرف شراب انگوری کو کہا جاتا ہے جس کے دلائل پہلے عرض کیے گئے۔خیال رہے کہ ان مذکورہ پانچ چیزوں کا ذکر حصر کے لیے نہیں کیونکہ شراب ان کے علاوہ اور چیزوں کی بھی بنتی ہے،چونکہ عمومًا عرب میں ان ہی پانچ چیزوں کی شراب ہوتی تھی اس لیے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا یعنی گیہوں،جَو،چھوارے،کشمش اور شہد۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3647