Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3636

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِيْنَ حُرِّمَتْ، وَمَا نَجِدُ خَمْرَ الأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيْلًا، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أنس قال: لقد حرمت الخمر حين حرمت، وما نجد خمر الأعناب إلا قليلا، وعامة خمرنا البسر والتمر. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے جب شراب حرام کی گئی ۱؎حالانکہ ہم شراب بہت تھوڑی ہی پاتے تھے ہماری عام شرابیں کچی کھجوروچھوہارے کی تھیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ شراب رب تعالٰی نے حرام فرمائی اس طرح کہ اس کی حرمت قرآن کریم میں نازل فرمائی اسی لیےحرم رسول اﷲنہ فرمایا۔(مرقات)
۲
؎کیونکہ حجاز میں انگور بہت گراں تھے کھجور بہت سستی اس لیے وہاں شراب انگوری بڑی مہنگی پڑتی تھی جو امیر لوگ پی سکتے تھے عام لوگ کھجور کی شراب پیتے تھے۔خیال رہے کہ کھجور جب درخت میں نمودار ہوتی ہے تو طلع کہلاتی ہے کچھ بڑی ہونے پر خلال پھر ملح پھر کچی بُشر پختہ مگر تر رطب کہلاتی ہے،خشک ہوکر تمر یعنی چھوہارا۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3636