Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3648

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيْمٍ، فَلَمَّا نزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّهٗ لِيَتِيْمٍ، فَقَالَ : "أَهْرِيْقُوْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: كان عندنا خمر ليتيم، فلما نزلت المائدة سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه وقلت: إنه ليتيم، فقال : "أهريقوه". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی ۱؎تو جب سورۂ مائدہ اتری ۲؎تو میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق پوچھا اور عرض کردیا کہ وہ شراب یتیم کی ہے ۳؎فرمایا اسے گرا دو ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ ہمارے گھر میں ایک یتیم پرورش پاتا تھا جس کا کوئی عزیز فوت ہوا اس کے مالوں کا یہ بچہ وارث ہوا ان مالوں میں شراب بھی تھی،چونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی اس لیے وہ بھی اس بچہ کو میراث ملی،ابھی اس بچہ کی ملک میں ہی تھی کہ شراب حرام ہوگئی اس کے ضائع کرنے کا حکم صادر ہوگیا۔
۲
؎جس میں آیت کریمہ آئی"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)"اور شراب قطعی حرام کردی گئی اور شراب کو نجس بھی فرمایا گیا اسے شیطانی کام قرار دیا گیا،اس سے بچنے کا حکم دیا گیا۔فاجتنبوہاس بچنے پر فلاح و کامیابی کو موقوف فرمایا گیا کہ"لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ" اور شراب خوری کو جوئے،بت پرستی،تیروں سے فال کھولنے کی برابر قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ ایسی خبیث چیز قریب جانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ اسے پینا یا گھر میں رکھنا۔
۳
؎سوال کا مقصد یہ تھا کہ اس شراب کے ضائع کرنے میں یتیم بچہ کا نقصان ہوگا اگر اجازت ہو تو س کا سرکہ بنالیں یا کفار کے ہاتھ فروخت کردیں،پینے کی اجازت مانگنا مقصود نہ تھا لہذا حدیث ظاہر ہے۔
۴
؎یعنی نہ اسے کفار کے ہاتھ فروخت کرو نہ اس کا سرکہ بناؤ بلکہ اسے بہادو کیونکہ یہ مال غیر متقوم ہے مسلمان اس کی تجارت بھی نہیں کرسکتا نہ کسی حیلہ سے اسے استعمال کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حرام چیز کو فنا کردینا چاہیے،اگرچہ وہ نابالغ بچہ کی ہوکہ یہ بھی ایک قسم کی عملی تبدیلی ہے اسی لیے ڈھول طبلہ سارنگی وغیرہ حرام آلات کی چوری پر سزا نہیں ان کے توڑنے پر ضمان نہیں کہ یہ چوری نہیں تبلیغ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3648