Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3645

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا أَسْكَرَ كَثِيْرُهٗ فَقَلِيْلُهٗ حَرَامٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ما أسكر كثيره فقليله حرام". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس چیز کی بہت مقدار نشہ دے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ تھوڑی شراب بہت شراب کا عادی بنادیتی ہے اس لیے تھوڑی سے بھی بچنا لازم ہے،یہ حدیث ظاہر معنی سے امام شافعی وغیرہم کے بھی خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں بھی افیون،چرس،بھنگ،جو دواؤں میں استعمال کی جائے اور نشہ نہ دے تو حرام نہیں، یہاں پتلی اور خشک کی قید نہیں لہذا اس کا وہ ہی مطلب ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ خمر یعنی شراب انگوری کا تو ایک قطرہ بھی حرام قطعی ہے اور دوسری شرابوں کا قطرہ بھی حرام ہے جب لذت یا طرب یا لہو کے لیے پئیے یا اس لیے حرام ہے کہ وہ زیادہ پینے کا ذریعہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،اس کی بحث ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمایئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3645