Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3649

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِيْ طَلْحَةَ أَنَّهٗ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِيْ حِجْرِيْ، قَالَ: "أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهٗ، وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوُدَ أنه سأل النبي صلي الله عليه وسلم عن إيتام ورثوا خمرا قال:"أَهْرِقْهَا"، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًا؟ قَالَ: "لَا".

وعن أنس عن أبي طلحة أنه قال: يا نبي الله! إني اشتريت خمرا لأيتام في حجري، قال: "أهرق الخمر واكسر الدنان". رواه الترمذي وضعفه، وفي رواية أبي داود أنه سأل النبي صلي الله عليه وسلم عن إيتام ورثوا خمرا قال:"أهرقها"، قال: أفلا أجعلها خلا؟ قال: "لا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ حضرت ابو طلحہ سے ۱؎راوی انہوں نے عرض کیا یا نبیمیں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی جو میری پرورش میں ہیں ۲؎فرمایا شراب بہا دو مٹکے توڑ دو ۳؎روایت کیا اسے ترمذی نے اور ضعیف کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان یتیموں کے بارے میں پوچھا جو شراب کے وارث ہوئے ہیں فرمایا اسے بہادو عرض کیا کہ کیا سرکہ نہ بنالیں فرمایا نہیں۴؎

شرح حدیث

۱∞؎بارہا عرض کیا جاچکا ہے کہ حضرت ابو طلحہ جناب انس کے سوتیلے باپ ہیں،حضرت انس نے ان ہی کے ہاں پرورش پائی،دونوں باپ بیٹا بڑے مراتب کے مالک ہیں،فقیر نے انکی قبر مبارک کی زیارت کی ہے۔
۲
؎یعنی شراب کی حرمت سے پہلے میں نے بغرض تجارت ان یتیموں کے مال سے شراب خریدی تھی ابھی فروخت نہ کرچکا تھا کہ شراب حرام ہوگئی اب میں کیا کروں۔اس سوال کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی اوپر کی حدیث میں عرض کیا گیا یعنی سرکہ بنالینے یا کفار کے ہاتھ فروخت کردینے کی اجازت حاصل کرنا۔
۳
؎شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم ابتداءً تحریم میں تھا جب شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی تاکہ لوگ اس کے برتن دیکھ کر پھر شراب نہ پینے لگیں۔
۴
؎سرکہ بنانے کی ممانعت تنزیہی ہے یعنی شراب کا سرکہ بنانا مناسب نہیں۔(مرقات)یا یہ ممانعت شروع تحریم کے وقت کی ہے جب کہ شراب کے برتن توڑ دینے کا حکم بھی تھا اس کی تحقیق گزرچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3649