Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3642

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ: أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: "إِنَّهٗ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ داءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن وائل الحضرمي: أن طارق بن سويد سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الخمر فنهاه، فقال: إنما أصنعها للدواء، فقال: "إنه ليس بدواء ولكنه داء. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وائل حضرمی ۱؎سے کہ حضرت طارق ابن سوید ۲؎نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو منع فرمایا وہ بولے کہ دوا کے لیے بناتا ہوں تو فرمایا کہ شراب دوا نہیں لیکن وہ نری بیماری ہے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہ ہی حضرت وائل ابن حجر حضرمی ہیں جن کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ یمن کے شاہزادوں سے تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے حضور نے آپ کا بڑا احترام فرمایا۔
۲
؎آپ بھی حضرمی ہیں، آپ سے صرف ایک حدیث منقول ہے،صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔
۳
؎اس حدیث کی بنا پر اکثر علماء نے فرمایا کہ شراب سے علاج حرام ہے اس میں شفا ہے ہی نہیں،مگر بعض نے فرمایا کہ اگر مسلمان متقی حاذق طبیب کہہ دے کہ اس بیماری کی دوا سوائے شراب کے اور کچھ نہیں تب دواءً حلال ہوجاتی ہے یعنی جب شراب حرام رہے تو اس میں شفا نہیں مگر جب بحکم شرعی صورۃ مذکورہ میں حلال ہو جائے تو اس سے علاج ہوسکتا ہے لیکن اگر گلے میں لقمہ پھنس گیا ہے پانی موجود نہیں پی کر اتارے جان جارہی ہے شراب موجود ہے تو شراب پی کر لقمہ اتار سکتا ہے۔اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ اس مصیبت سے چھٹکارا یقینًا ہوجائے گا،بہرحال یہ حدیث قابل غور ہے۔قرآن کریم نے مخمصہ کی حالت میں مردار کھانے کی اجازت دی ہے وہ آیت اس قول کی تائید کرتی ہے اس حدیث کے متعلق علماء نے بہت گفتگو کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3642