Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3640

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ خَلِيْطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، وَعَنْ خَلِيْطِ الزَّبِيْبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيْطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ: "اِنْتَبِذُوْا كُلَّ وَاحِدٍ عَلٰى حِدَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي قتادة: أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن خليط التمر والبسر، وعن خليط الزبيب والتمر، وعن خليط الزهو والرطب، وقال: "انتبذوا كل واحد على حدة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوارے اور کچے کھجور کے ملاؤنی سے اور کشمش و چھوہاروں کی ملاؤنی سے اور کچے کھجور اور تر کھجور کی ملاؤنی سے منع فرمایا ۱؎اور فرمایا کہ ہر ایک کا علیٰحدہ نبیذ بناؤ ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان دو دو چیزوں کو ملاکر پانی میں بھگو کر ان کا شربت(نبیذ)نہ بناؤ کہ ان دو کے ملانے سے نشہ جلد پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک بھی متغیر ہوگیا تو دوسرے کو بھی خراب کردے گا،یہ حکم احتیاطی ہے اگر دونوں کو ملا کر بھگویا گیا اور نشہ پیدا نہ ہوا تو پینا حلال ہے۔
۲
؎امام احمدومالک نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل فرمایا ہے ان کے نزدیک اس مخلوط کا نبیذ حرام ہے نشہ دے یا نہ دے،امام اعظم و شافعی کے ہاں اگر نشہ دے تو حرام ہے ورنہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3640