Main Icon

باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3639

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُوْنَهٗ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَى اللّٰهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهٗ مِنْ طِيْنَةِ الْخَبَالِ" قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا طِيْنَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: "عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر: أن رجلا قدم من اليمن، فسأل النبي صلى الله عليه وسلم عن شراب يشربونه بأرضهم من الذرة يقال له: المزر، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أومسكر هو؟ " قال: نعم، قال: "كل مسكر حرام، إن على الله عهدا لمن يشرب المسكر أن يسقيه من طينة الخبال" قالوا: يا رسول الله! وما طينة الخبال؟ قال: "عرق أهل النار، أو عصارة أهل النار". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک شخص یمن سے آئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس شراب کے متعلق پوچھا جو ان کی زمین میں پی جاتی ہے جوار کی ہوتی ہے اسے مزر کہا جاتا ہے ۱؎تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا وہ نشہ آور ہے عرض کیا ہاں فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎بے شککے ذمہ ایک وعدہ ہے ۳؎اس کے متعلق جو نشہ پئیے۴؎یہ کہ اسے طینۃ الخبال پلائے لوگوں نے عرض کیا یارسولصلی اللہ علیہ و سلم طینۃ الخبال کیا چیز ہے فرمایا دوزخیوں کا پسینہ یا دوزخیوں کا کچ لہو ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سائل سمجھا یہ تھا کہ اسلام میں خمرحرام ہے اورخمر کہتے ہیں انگوری شراب کو اور ہمارے ملک میں انگور کی شراب نہیں ہوتی جوار کی ہوتی ہے شاید وہ حلال ہوگی اس لیے یہ سوال کیا۔
۲
؎یہ ایسا قاعدہ ہے کہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا،جوچیز بھی نشہ دے پتلی ہو جیسے شراب،خشک ہو جیسے افیون،بھنگ، چرس وغیرہ وہ حرام ہے حتی کہ اگر زعفران زیادہ کھانے سے نشہ ہوجائے تو اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔
۳
؎وعدہ بمعنی وعید ہے۔
۴
؎چونکہ زیادہ تر پتلی چیزیں نشہ کے لیے پی جاتی ہیں،نیز آگے پلانے کا ذکر ہی آرہا ہے اس لیےیشربفرمایا ورنہ افیون و بھنگ سے نشہ کرنا بھی حرام ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو اذان کا جواب نہ دے اس وقت لاپرواہی سے دنیاوی کام میں مشغول رہے اور جو شخص افیون کا عادی ہو اس کے خاتمہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے ان دو چیزوں سے بہت پرہیز کرے۔
۵
؎اس پسینہ یا پیپ و خون کی بدبو،بدمزگی،خرابی بیان نہیں ہوسکتی،سزا جرم کے مطابق ہے اس نے دنیا میں گندی بدمزہ بدبودار چیز پی لہذا اس کے عوض ایسی چیز پلائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3639