Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1084

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهٗ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ».فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا كَلَّمَهٗ عَبْدُ اللهِ حَتّٰى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن مجاهد عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يمنعن رجل أهله أن يأتوا المساجد».فقال ابن لعبد الله بن عمر: فإنا نمنعهن. فقال عبد الله : أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول هذا؟ قال: فما كلمه عبد الله حتى مات. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مجاہد سے وہ حضرت عبد الله ابن عمر سے راوی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے تو عبد الله ابن عمر کے بیٹے نے کہا ہم تو انہیں روکیں گے تو حضرت عبدالله نے کہا کہ میں تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تو یہ کہتا ہے،فرماتے ہیں کہ ان سے حضرت عبد الله نے مرتے دم تک کلام نہ کیا ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح ابھی گزر چکی،اس سے معلوم ہوا ہے کہ صحابہ کے دل میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی کیسی محبت تھی کہ ایک گستاخی کے شائبہ پر اپنے لخت جگر کو ہمیشہ کے لیئے چھوڑ دیا۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو دین کے مقابلہ میں کسی دیندار کی مروت کریں۔بعض بے ادب کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ حدیث کے مقابل قیاس اور رائے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے امام اعظم رحمۃ الله علیہ کو اہل الرائے کہتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور کذاب ہیں۔ امام اعظم کا فرمان ہے کہ حدیث ضعیف بھی رائے اور قیاس پر مقدم ہے۔چنانچہ وہ اولًا قرآن کو لیتے ہیں،پھر حدیث کو پھر اقوال صحابہ کو، اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو جن صحابی کا قول کتاب و سنت سے قریب ہو اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر احادیث میں اختلاف نظر آئے تو قیاس کے ذریعہ کسی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں،یعنی قیاس پر عمل نہیں کرتے بلکہ حدیث کی مدد سے حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر اس کی تحقیق دیکھنا ہو تو اس جگہ پر مرقاۃ دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1084