Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1064

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتّٰى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوٰى أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ

وعن أبي هريرة قال: إني سمعت حبي أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تقبل صلاة امرأة تطيبت للمسجد حتى تغتسل غسلها من الجنابة» . رواه أبو داود وروى أحمد والنسائي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس عورت کی نماز قبول نہیں جو مسجد کے لیئے خوشبو لگائے ۱؎جب کہ جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے ۲؎(ابوداؤد)احمد و نسائی نے ا سکی مثل۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو گھر میں خوشبو لگانا منع نہیں جب کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ پہنچے ۱۲۲∞؎ یعنی خوشبو اگر سارے بدن پر ملی ہوئی ہے تو اس قدر مل مل کر نہائے جیسے جنابت میں نہاتی ہے تاکہ خوشبو کا اثر بالکل جاتا رہے تب نماز کو آئے ۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1064