Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1076

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرّجْعَةَ فَهُوَ مُنَافِقٌ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :«من أدركه الأذان في المسجد ثم خرج لم يخرج لحاجة وهو لا يريد الرجعة فهو منافق» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اذان مسجد میں پالے پھر وہ نکل جائے نہ نکلا ہو کسی کام کے لیئے نہ وہ لوٹنے کا ارادہ کرتا ہو وہ منافق ہے ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی وہی مراد تھا جو بلاضرورت جائے اور واپسی کا ارادہ نہ ہو دوسری جگہ امامت بھی حاجت میں داخل ہے اسی طرح اب ریل کا وقت ہونا یا ایسی ہی اور دنیوی حاجت اس میں شامل ہے،یہاں منافق سے مراد منافق عملی ہے، یعنی ایسا شخص منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1076